ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں 60 دن توسیع کی مفاہمت ہوگئی: امریکی ذرائع

معاہدہ ٹرمپ کی حتمی منظوری کا منتظر ہے اور اس میں جوہری مذاکرات شروع کرنے کا ذکر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اے ایف پی کے مطابق امریکی ذرائع نے جمعرات کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس فریم ورک معاہدے کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں جس پر وہ پہنچے ہیں اور جس کے تحت فائر بندی میں 60 دن کی توسیع کی جائے گی۔ چار باخبر ذرائع نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امریکہ اور ایران فائر بندی میں 60 دن کی توسیع کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں تاہم ٹرمپ نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اسی طرح ایک باخبر امریکی عہدیدار نے اے پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کار فائر بندی میں 60 دن کی توسیع اور ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ اس مفاہمت کی یادداشت ، جس پر اتفاق کیا جا رہا ہے، پر اب بھی امریکی صدر کی منظوری کی ضرورت ہے۔

تاہم ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک ذریعے نے نیوز ایجنسی ’’ تسنیم ‘‘ کو ان معلومات کی صحت سے انکار کیا اور کہا کہ یہ درست نہیں ہے اور متن کو ابھی تک حتمی طور پر اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ امریکی ذرائع نے ان معلومات کی تصدیق کی جو ویب سائٹ "ایکسیوس" نے دی تھیں کہ فریقین جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات شروع کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر پہنچ گئے ہیں۔

"ایکسیوس" کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کے ذریعے نقل و حمل غیر محدود ہوگی اور بغیر کسی فیس یا پریشانی کے ہوگی۔ ایران 30 دنوں کے اندر اس آبی گزرگاہ سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانے کا پابند ہے۔ اس کے بدلے میں واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد کردہ ناکہ بندی کو ختم کر دے گا لیکن یہ صرف تجارتی جہاز رانی کے حجم کے متناسب ہوگا جو آبنائے کے ذریعے دوبارہ شروع کی جائے گی۔ تہران کو امریکی پابندیوں کی معطلی کے سائے میں تیل فروخت کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔

اسی طرح مفاہمت کی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنے کا عزم بھی شامل ہے۔ ویب سائٹ "ایکسیوس" کے مطابق سب سے پہلے زیر بحث آنے والے معاملات میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے چھٹکارا پانے کا طریقہ کار شامل ہوگا۔ ٹرمپ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ واضح رہے آٹھ اپریل کو فائر بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

بدھ کے روز امریکی صدر نے کہا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایرانی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں اور انہوں نے خبردار کیا کہ وہ اس مشن کو فوجی طریقے سے ختم کر سکتے ہیں۔ جمعرات کو اس سے قبل ایران اور امریکہ نے باہمی حملوں کے بعد ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ امریکی فوج نے چار ایرانی ڈرون طیارے مار گرائے اور بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات جنوبی ایران میں ایک اڈے پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں آئی آر جی سی نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا جس کی انہوں نے وضاحت نہیں کی تاہم کویتی فوج نے اپنی طرف سے معاندانہ میزائل حملوں اور ڈرون طیاروں کا مقابلہ کرنے کی اطلاع دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں