امریکی ساختہ نئے فضائی ایندھن بردار طیاروں کی اسرائیلی فضائیہ کو فراہمی کے ساتھ ہی اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ ''تیسری جنگ'' کی تیاریوں کا عمل جاری ہے۔
ان تیاریوں کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی نئے تصادم کی صورت میں اسرائیلی معاشرہ انتہائی تیزی سے ردعمل دینے کے لیے تیار ہو۔
ریڈیو فری یورپ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے پر اسرائیل کی تشویش کا ذکر کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ جنگ اسرائیل کے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
28 مئی 2026 کو اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے اعلیٰ افسران نے بتایا کہ انہیں سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ ایران کے ساتھ ممکنہ تیسری جنگ کی صورت میں اندرونی محاذ کی تیاری کو ہر ممکن حد تک مضبوط بنایا جائے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے ''کان'' کے مطابق ان افسران کا کہنا تھا کہ ان ہدایات کا مقصد معاشرے کو اس انداز میں تیار کرنا ہے کہ ہوم فرنٹ سسٹم انتہائی مختصر وقت میں مکمل فعال ہو جائے، یعنی ہنگامی صورتحال میں فوری اور بھرپور ردعمل دیا جا سکے۔
انتہائی خفیہ منصوبہ بندی
اسرائیلی فوج کے اعلیٰ افسران کے مطابق آئندہ کسی بھی ممکنہ جنگ کی منصوبہ بندی کو انتہائی خفیہ رکھا جانا چاہیے اور اس حوالے سے اسرائیلی معاشرے کے اندر معلومات کے افشا سے گریز کیا جائے، تاکہ مخالف فریق کے مقابلے میں اچانک کارروائی کا عنصر برقرار رکھا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی کا مطلب یہ ہے کہ ہوم فرنٹ کمانڈ آبادی کو پہلے سے وارننگ جاری نہیں کر سکے گی، لہٰذا ابھی سے ایسے انتظامات کیے جا رہے ہیں کہ معمول کی زندگی سے مکمل جنگی حالت میں انتہائی کم وقت میں منتقل ہوا جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماضی کی جنگوں کے دوران بلدیاتی اداروں اور اسپتالوں سمیت مختلف اداروں کو ایرانی میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر پیشگی انتباہات دیے جاتے تھے تاکہ وہ ضروری تیاری کر سکیں۔
اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق 40 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایران نے تقریباً 550 میزائل داغے، جن میں سے 72 فیصد کلسٹر وار ہیڈز سے لیس تھے۔
ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے اندر تقریباً 1200 مقامات متاثر ہوئے، جبکہ 25 علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ریکارڈ کی گئی۔
ہوم فرنٹ کمانڈ نے مزید بتایا کہ جنگ کے بعد کی جانے والی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ ان حملوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت عرب شہریوں، غیر ملکی مزدوروں، مہاجرین اور معمر افراد کی تھی۔ بعض متاثرین عبرانی زبان سے واقف نہیں تھے، جس کے بعد متعلقہ ادارے نے ان طبقات تک ہنگامی انتباہات مؤثر انداز میں پہنچانے کے طریقۂ کار پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے ''کان'' کے مطابق نئی دفاعی ہدایات کا مقصد وارننگ سسٹمز کو بہتر بنانا، مقامی حکام کے ساتھ رابطہ کاری کو مضبوط بنانا اور امدادی و ریسکیو یونٹس کی کارروائی کو تیز کرنا ہے، تاکہ اندرونی محاذ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹ سکے۔
اسی تناظر میں اسرائیلی چینل 12 نے 28 مئی 2026 کو فوجی اندازوں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آئندہ کسی بھی ممکنہ تصادم میں ایران پہلے سے زیادہ تیزی سے جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہوگا اور اس کی میزائل صلاحیتیں مزید ترقی یافتہ ہو چکی ہوں گی۔
فوجی تخمینوں کے مطابق ایران نے اسرائیل کے ساتھ گزشتہ جنگوں سے اہم تجربات حاصل کیے ہیں اور اپنے میزائلوں کے استعمال کے طریقۂ کار کو مزید بہتر بنایا ہے، جس کا اثر کسی ممکنہ تیسری جنگ میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کی اقتصادی کمیٹی کے سربراہ اور حکمران جماعت لیکود کے رہنما داؤد بیتان نے ایک اہم بیان میں کہا کہ اسرائیلی عوام کو اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ ایران کے ساتھ ہر ڈیڑھ سے دو سال کے عرصے میں ایک وسیع اور شدید جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فضائی تیاریوں میں اضافہ: امریکی ایندھن بردار طیارے اسرائیل پہنچ گئے
اسرائیلی میڈیا نے 28 مئی 2026 کو رپورٹ کیا کہ امریکا سے حاصل کیے گئے نئے فضائی ایندھن بردار طیاروں کی پہلی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی ہے۔
KC-46 طراز کے متعدد طیارے نواتیم ایئر بیس پر اتارے گئے۔اسرائیل نے یہ طیارے امریکا سے اپنی طویل فاصلے کی فضائی کارروائیوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے حاصل کیے ہیں، خاص طور پر ایران کے ساتھ کسی ممکنہ تصادم کے تناظر میں۔
اسرائیلی فضائیہ کے ایک افسر نے کہا کہ اگر گزشتہ جنگ کے دوران یہ طیارے دستیاب ہوتے تو لڑاکا طیاروں کی آپریشنل صلاحیت اور مؤثریت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا۔
جیرولم پوسٹ کے مطابق یہ طیارے ''گیم چینجر'' ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کی بدولت اسرائیل کو ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں زیادہ خودمختاری حاصل ہوگی، حتیٰ کہ اگر مستقبل میں کوئی امریکی انتظامیہ ایسی کارروائیوں کی مخالفت کرے۔
دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ مفاہمت یا معاہدے سے متعلق بین الاقوامی رپورٹس کے بعد اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
اسی دوران امریکی نشریاتی ادارے CNN نے سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران بعض فوجی مقامات پر سرنگوں کو دوبارہ فعال یا کھولنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے اسرائیلی حلقوں میں مزید تشویش پیدا ہوئی ہے۔
امریکی،ایرانی مفاہمت پر اسرائیلی تشویش میں اضافہ
اسرائیلی اخبار ''اسرائیل ہیوم'' کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی قیادت اور خطے کے چند دیگر رہنماؤں کو ایک مجوزہ مفاہمتی مسودے سے آگاہ کیا، جو کثیر فریقی مذاکرات کے ذریعے تیار کیا گیا تھا، اس پر ان کی آراء طلب کیں۔
اس دوران مختلف سیاسی اور سکیورٹی حلقوں سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی تجزیہ کاروں نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں اسرائیل اپنے تمام اہداف حاصل نہیں کر سکا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا کہ موجودہ اطلاعات کے مطابق اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی مفاہمت طے پاتی ہے تو اسرائیل کو اس چیز کے لیے اضافی سکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت ہوگی، جسے وہ مسلسل ایرانی خطرہ قرار دیتا ہے۔
اخبار کے مدیر نے جنگ کو ''تاریخی ناکامی'' قرار دیا، جبکہ معاریو اخبار نے خبردار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بھی معاہدہ اسرائیل کے لیے ایک سنگین تزویراتی چیلنج بن سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں چوتھی مرتبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا، جن میں حزب اللہ سے متعلق صورتحال بھی شامل تھی۔
ادھر اسرائیل نے جنوبی اور مشرقی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت حزب اللہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جوابی کارروائیوں کے تبادلے کے دوران سامنے آئی ہے، جبکہ اسرائیل نے ریزرو فوجیوں کی طلبی بھی بڑھا دی ہے۔ اسرائیلی حکام ان اقدامات کو علاقائی فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار میں توسیع قرار دے رہے ہیں۔