ایران : مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کی وسیع پیمانے پر تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی حکام اپنے مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ یہ بات ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعہ کے روز رپورٹ کی ہے۔ خامنہ ای جو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع کی گئی جنگ کے پہلے ہی روز اپنے گھر میں بمباری کا نشانہ بن گئے تھے۔

خامنہ ای اور ان کے کئی اہل خانہ کے علاوہ جنگ کے پہلے ہی روز بچیوں کے پرائمری سکول میں لگ بھگ 170 بچیاں بھی سکول پر بمباری کر کے شہید کر دی گئی تھیں۔ تاہم مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ کا جنازہ تب سے التوا میں چلا آرہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ امریکی و اسرائیلی بمباری کا خوف ہی رہا۔

علی خامنہ ای تقریباً یس سال تک ایران کے اعلیٰ ترین منصب پر رہے۔ ان کے بمباری سے جاں بحق ہونے کے وقت ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای بھی شدید زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں اسی زخمی حالت میں ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ ابھی تک منظرعام پر نہیں آئے ہیں۔ البتہ یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اب اچھی صحت کے ساتھ ہیں اور فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں۔

تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد اگرچہ علی خامنہ ای کے جنازے کی تیاریوں کی تصدیق کی جا رہی ، مگر ابھی تک جنازے کے لیے متعین تاریخ یا وقت اور جگہ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم تہران میں کورآرڈینیشن کونسل کے اسلامی پروپیگنڈے کے سربراہ محسن محمودی نے تیاریوں کی تصدیق کر دی ہے۔

اس سے قبل ماہ اپریل میں بھی مقتول سپریم لیڈر خامنہ ای کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا ، مگر ابھی جنازے کی باقاعدہ تیاری کی جا رہی ہے۔ جنازہ جنگ کے جاری رہنے کی وجہ سے التوا میں رکھا گیا۔ محسن محمودی کے مطابق متعلقہ تنظیمیں اور ادارے اپنا اپنا کام کر رہے ہیں اور باہمی رابطے میں بھی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں