سعودی عرب میں حج سیزن کے دوران رضاکارانہ طبی پروگرام "ایک درہم بچاؤ" (درہم وقایہ) نے سنہ 1447ھ کے حج سیزن کے دوران اپنے اٹھارویں ایڈیشن کی سرگرمیاں کامیابی سے مکمل کر لی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت مقدس مقامات میں 3004 سے زائد حجاج کرام کو طبی اور ہنگامی امداد کی خدمات فراہم کی گئیں۔ اس مہم میں 710 مرد اور خواتین رضاکاروں نے حصہ لیا جنہوں نے میدان میں تقریباً 29820 رضاکارانہ گھنٹے خدمات انجام دیں۔
اس پروگرام کی نگرانی پرائمری ہیلتھ کیئر کی چیریٹیبل ایسوسی ایشن "ایک درہم بچاؤ" نے وزارت صحت، وزارت حج و عمرہ اور مکہ مکرمہ ہیلتھ کلسٹر کے تعاون سے کی۔ مہم کے دوران 115 فیلڈ ٹیمیں تشکیل دی گئیں جو 8 سے 12 ذی الحجہ کے دوران منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں تعینات رہیں۔
پاؤں کی چوٹیں سرفہرست
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ طبی ٹیموں کے سامنے آنے والے کیسز میں پاؤں کی چوٹیں سب سے اوپر رہیں، جن کی تعداد 1858 تھی اور یہ کل کیسز کا 62 فیصد بنتی ہے۔ اس کے بعد شدید گرمی اور لو لگنے (ہیٹ اسٹروک) کے 270 کیسز سامنے آئے۔ باقی خدمات میں مختلف نوعیت کی طبی حالتوں، دائمی بیماریوں اور ایسے کیسز کا علاج شامل تھا جنہیں مقدس مقامات کے ہسپتالوں میں منتقل کرنا ضروری تھا۔
حج کا سیزن شروع ہونے سے پہلے تمام شرکاء کو 19 ہزار گھنٹوں سے زیادہ کے تربیتی اور کوالیفائنگ پروگرامز کروائے گئے تاکہ فیلڈ میں ہنگامی اور طبی حالات سے نمٹنے کے لیے ان کی تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔ رضاکاروں میں مردوں کا تناسب 56.6 فیصد جبکہ خواتین کا تناسب 43.4 فیصد رہا۔
خدمت کے 18 سال
پرائمری ہیلتھ کیئر کی چیریٹیبل ایسوسی ایشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر جاسر الشہری نے تاکید کی کہ اس سال پروگرام کی کامیابی اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں گذشتہ 18 سالوں سے جاری سفر کا تسلسل ہے۔ انہوں نے رضاکاروں کی اعلیٰ کارکردگی اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو سراہا جس نے حجاج کرام کو فراہم کی جانے والی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالعزیز بوقس نے وضاحت کی کہ فیلڈ ٹیموں کی ذمہ داریاں صرف ابتدائی طبی امداد تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان میں حجاج کرام کے لیے ہیلتھ اویئرنس اور نفسیاتی مدد بھی شامل تھی تاکہ مناسک کی ادائیگی کے دوران ان کے صحت کے تجربے کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
رضاکارانہ کلچر کا فروغ
کارپوریٹ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سپروائزر ڈاکٹر ماجد معافا نے اشارہ کیا کہ اس پروگرام نے مملکت کے مختلف علاقوں سے رضاکاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے تقریباً 80 فیصد رضاکار منظور شدہ تربیت اور اہلیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد پہلی بار حصہ لے رہے ہیں۔
یہ پروگرام مملکت سعودی عرب میں رضاکارانہ کام کے بڑھتے ہوئے کلچر اور حج سیزن کے دوران ہیلتھ سسٹم کو سپورٹ کرنے میں اس کے اہم کردار کی عکاسی کرتا ہے، جو سعودی وژن 2030 اور ضیوف الرحمن سروس پروگرام کے اہداف کے عین مطابق ہے۔