اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی تجویز پر، جس کا اعلان بدھ کو واشنگٹن میں کیا گیا تھا، اپنے پہلے تبصرے میں لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے تصدیق کی کہ وہ لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے بدلے دریائے لیطانی کے جنوب سے حزب اللہ کے انخلا پر متفق ہیں۔
حزب اللہ کے حلیف نبیہ بری نے آج جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ "اس معاہدے کو مثبت انداز میں پڑھا جا سکتا تھا اگر اس میں شروع ہی سے زمین، سمندر اور فضا میں بغیر کسی شرط کے اور بغیر سب کچھ مسمار کیے مکمل جنگ بندی کی بات کی گئی ہوتی۔"
نقصان دہ معاہدہ
تاہم انہوں نے اس مشترکہ معاہدے کو "نقصان دہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں حزب اللہ کی طرف سے مکمل جنگ بندی اور دریائے لیطانی کے جنوب سے تمام عناصر کو نکالنے کی شرط رکھی گئی ہے، جبکہ اسرائیل کا سرحدوں سے پیچھے انخلا شامل نہیں ہے۔
بری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ بندی کا زمین، سمندر اور فضا میں بغیر کسی شرط کے مکمل اور ہمہ گیر ہونا ضروری ہے اور دیہات کی کھدائی اور مسماری نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان کے قصبہ البیساریہ میں نبیہ بری کے زیر قیادت "امل موومنٹ" کے حامیوں اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں اور کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ اس کے باعث لبنانی فوج کو علاقے میں تعینات ہونا پڑا، یہ بات العربیہ/الحدث کے ذرائع نے بتائی۔
یہ بیان حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم کی جانب سے گذشتہ روز امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر تنقید کے بعد سامنے آیا، جس میں انھوں نے معاہدے کو ملک کی توہین قرار دیا تھا۔ قاسم نے جنوبی لبنان سے اپنی تنظیم کے عناصر کے انخلا کو مسترد کرتے ہوئے پورے لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے نہ صرف بیروت کے جنوبی مضافات یا جنوب کے "مخصوص" علاقوں سے بلکہ تمام لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام نے رائے دی کہ یہ معاہدہ "لبنانیوں اور جنوبی باشندوں کے لیے آخری موقع" ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے اس وقت مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔ انھوں نے رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کو کسی بھی نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
بدھ کو واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے وفود کے درمیان براہِ راست بات چیت کے 4 ادوار کے بعد جس آخری معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا، اس میں طے پایا تھا کہ حزب اللہ جنوب سے انخلا کرے گی، "شمالی اسرائیل" پر اپنے حملے بند کرے گی اور لبنانی فوج ان علاقوں میں تعینات ہوگی جنہیں ابتدا میں "تجرباتی" قرار دیا گیا ہے۔ بعد میں اسرائیلی افواج کچھ جنوبی قصبوں سے انخلا کریں گی۔
اس میں یہ بھی اشارہ کیا گیا کہ اسرائیل اس انخلا کے بدلے بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ نہ بنانے کا پابند ہوگا، بشرطیکہ حزب اللہ "شمالی اسرائیل" کو نشانہ بنانا جاری نہ رکھے۔
واضح رہے کہ جنگ بندی کے ایک پچھلے معاہدے کا اعلان امریکہ نے گذشتہ اپریل میں کیا تھا، لیکن وہ برقرار نہ رہ سکا، کیونکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے شدید فضائی حملے جاری رکھے اور اس کی افواج دریائے لیطانی کے جنوب میں مزید اندر تک داخل ہو گئیں۔
حزب اللہ نے "شمالی اسرائیل" کی جانب میزائل اور ڈرون داغ کر اور جنوبی لبنانی قصبوں میں اسرائیلی افواج پر حملے کر کے جواب دیا۔
-
اسرائیلی فوج کا لبنان کے الصرفند میں حزب اللہ کے خلاف عنقریب حملوں کا انتباہ
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے الصرفند کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ کا اسرائیل کے ساتھ معاہدہ مسترد کرنے کا اعلان... سلام نے نتائج سے خبردار کر دیا
لبنانی صدر جوزف عون کی جانب سے واشنگٹن میں اعلان کردہ معاہدے کو جامع جنگ بندی کے ...
بين الاقوامى -
قاآنی کا حزب اللہ کےمعاہدے پر رد عمل سےقبل ہی "لبنان کی منظوری کے لیے اپنی شرائط" کااعلان
پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ...
بين الاقوامى