اسرائیل: ریٹائر ہونے والا موساد چیف، جس نے موساد کو عملی جنگی ادارہ بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ریٹائر ہونے والے سربراہ ڈیوڈ بارنا کے بارے میں یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ بارنیا نے موساد کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اسرائیل کی جنگی قوت میں تبدیل کر دیا ہے۔

جس نے اپنی اہلیت کو مشرق وسطیٰ کے کئی محاذوں پر بیک وقت جنگوں اور جنگی کارروائیوں کے دوران کامیاب دکھایا ہے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار ' یروشلم پوسٹ' کی ایک تازہ رپورٹ میں بھی کہی گئی ہے۔

'یروشلم پوسٹ' میں یہ رپورٹ موساد کے سابق سربراہوں کے انٹرویوز کی شکل میں ہفتے کے روز شائع کی گئی ہے۔ جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ڈیوڈ بارنیا نے موساد کو محدود کارروائیوں تک روکے رکھنے کے بجائے اسرائیلی کی وسیع تر جنگی ضرورتوں کے پیش نظر جنگی آپریشنز کے لیے ایک مرکزی کردار کے ساتھ آگے کیا ہے۔

حزب اللہ اور دوسرے علاقائی دشمنوں کو موساد نے اپنے اسی نئے کردار کے باعث نشانہ بنایا۔ اسی موساد چیف کی قیادت میں موساد نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سمیت کئی دوسرے اہم عہدے داروں کو بیروت میں قتل کرنے کی کامیاب منصوبہ بندی کی۔ لبنان میں مشہور زمانہ پیجر آپریشن کی کامیابی بھی موساد کے مغربی دنیا کے ملکوں میں ٹیکنالوجی کمپنیوں پر گہرے اثر رسوخ کی عکاس رہی۔ کہ موساد بظاہر غیر جنگی یا غیر فوجی الیکٹرونکس اشیا کو بھی اپنی جاسوسنی اور جنگی ضرورتوں کے لیے کیسے استعمال کر سکتی ہے۔

'یروشلم پوسٹ' کے مطابق موساد نے ڈیوڈ بارنیا کے زیر قیادت دوسرے ملکوں میں مقامی ایجنٹوں کی بھرتیوں اور ان سے کام لینے کی ایک غیر معمولی حکمت عملی اختیار کی۔ ان کامیابیوں کی ایک مثال مشرق وسطیٰ سے لبنانی ایجنٹوں کی ہے۔ ان مقامی ایجنٹوں کی بھرتی ہی مفید ثابت ہوتی رہی۔ انہی کی بدولت حسن نصراللہ کا قتل ممکن ہوا اور انہی کی بدولت لبنان و دیگر ملکوں میں زمینی اہداف کو اسرائیلی فضائیہ آسانی سے بمباری کا نشانہ بنا سکی۔

اسرائیلی اخبار نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ یہی موساد ایجنٹ جنگی علاقوں میں جا کر ایسے آلات کی تنصیب کرتے تھے کہ پھر اسرائیلی بمباری ٹھیک نشانے پرآتی رہی۔

یوں ڈیوڈ بارنیا نے مشرق وسطیٰ میں بھرتی کیے گئے ایجنٹوں کو موساد کے لیے اثاثہ بنا دیا ہے جو آئندہ بھی جنگ اور امن دونوں صورتوں میں ہر جگہ دستیاب اور بروئے کار رہے گا۔ 'یروشلم پوسٹ' نے ایران کے خلاف جون 2025 میں لڑی گئی جنگ کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ اس میں موساد کا کردار کلیدی تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق اسرائیلی موساد نے کردوں کو ایران کے خلاف کافی پہلے تیار کر لیا تھا۔کہ وہ زمین پر اسرائیلی فوج کے انداز میں ایران کو ضرب لگائیں گے۔ نیز جنگ کے دوران ایرانی رجیم کو کمزور کرنے کے لیے ایران کے اندر کردار ادا کریں گے۔

یہ منصوبہ تیار کرتے ہوئے موساد کے سامنے امریکہ کے لیے عراق جنگ کے دوران کردوں کو استعمال کیا جانا ایک مثال کے طور پر موجود تھا۔ امریکہ نے 2003 میں صدام حکومت کے خلاف شروع کردہ جنگ میں ان کردوں کو کامیابی سے استعمال کیا تھا۔ اب ایران کے خلاف اسرائیل کو یہ کام لینا تھا۔ تاہم کردوں کا امریکی اثاثہ ہونے کی وجہ سے بعد ازاں یہ تجویز درمیان میں رہ گئی۔ اس میں ترک صدر طیب ایردوآن نے بھی رخنہ ڈالا ۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق موساد چیف سمجھتے تھے کہ صرف فوج کے استعمال سے ایران کو کبھی بھی نیچے نہیں گرایا جا سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایرانی نظام کو اندر سے کمزور کرنے کی مسلسل کوششیں ہوں۔ ان میں مسلسل اقتصادی پابندیاں، ایران کو مشرق وسطیٰ میں سفارتی حوالے سے تنہائی کا شکار کیے رکھنا بھی ہدف بنانے پر زور دیا۔ پھر فوجی دباؤ ڈال کر ایرنی رجیم تبدیل ہو سکے گی۔

اس رپورٹ میں ایرانی جوہری تنصیبات کی مکمل تباہی نہ ہو سکنے پر تشویش امریکہ اور اسرائیل دونوں کو ہے۔ مگر امریکہ اپنی فوج کو ایرانی جوہری تنصیبات کی تباہی کے لیے زمین پر اتارنے کو راضی نہیں تھا۔ بلکہ امریکہ اس امر پر زور دینے لگا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری ایشو کو مذاکرات کےذریعے ہی طے کیا جائے۔

جبکہ اسرائیلی قائدین نے بھی 2024 میں موساد کا ایرانی جوہری تنصیبات کے لیے منصوبہ انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے شیلف میں رکھ دیا تھا۔

تاہم موساد کے ریٹائر ہونے والے سربراہ بارنیا نے رپورٹ کے بعض حصوں کو متنازعہ کیا اور کہا موساد نے ایران کے خلاف کئی کامیاب آپریشن لانچ کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں