سفارت کار:مغربی کنارےپراسرائیل پردباؤ ڈالنےکےلیےفرانس،اتحادیوں کی نظریں قومی اقدامات پرہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تین یورپی سفارت کاروں نے ہفتے کے روز کہا کہ فرانس کئی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ مغربی کنارے میں تشدد سے منسلک افراد کو نشانہ بنانے والی مربوط قومی پابندیاں جاری رکھ کر اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے۔

سفارت کاروں نے کہا کہ اقدامات بشمول اثاثے منجمد کرنا اور سفری پابندیوں کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے اور ممالک افراد کی مختلف فہرستوں کو اپنا سکتے ہیں۔

یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے درمیان سامنے آیا اور کئی مغربی ممالک میں وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف غم و غصے کی نشاندہی کرتا ہے جس نے اسرائیلی آبادیوں میں توسیع کی ہے۔ سفارت کاروں نے کہا ہے کہ توسیع کا مقصد فلسطینی ریاست قائم ہونے کے امکانات کو کمزور کرنا ہے۔

اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کے لیے یورپی یونین متفق نہیں

سفارت کاروں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات میں پیش رفت کے لیے یورپی یونین کی کوششیں روک دی گئی ہیں جس کے بعد کئی ممالک نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مربوط قومی پابندیاں فی الحال بہترین آپشن ہیں۔

"یورپی یونین کی سطح پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے اس لیے ہم قومی سطح پر بات چیت کی طرف بڑھے ہیں،" ایک سفارت کار نے کہا۔

دو سفارت کاروں نے کہا کہ اس کا اعلان آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔

ایک اور سفارت کار نے کہا، برطانیہ اور ناروے ان ممالک میں شامل ہیں جن سے فرانس تعاون کر رہا ہے حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ اور کون سا ملک اس میں شامل ہو سکتا ہے۔

زیادہ تر ممالک اس خوف سے قومی پابندیوں پر عوامی سطح پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ ممکنہ ہدف بننے والے لوگ یا گروپ پہلے ہی اپنے اثاثہ جات منتقل کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے 11 مئی کو یورپی یونین کی کچھ نئی پابندیوں کے بعد کہا تھا کہ بلاک نے "اسرائیلی شہریوں اور اداروں پر ان کے سیاسی نظریات کی بنا پر اور بغیر کسی بنیاد کے پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا۔"

فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت سات مغربی ممالک نے 22 مئی کو اسرائیلی حکومت پر مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا تھا۔

ایک اہم تشویش اسرائیل کا یروشلم کے مشرق میں ایک آبادی تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔

"مغربی کنارے میں آبادکاری کی توسیع اور تشدد کے پیشِ نظر ہم نے پہلے ہی اقدامات کر لیے ہیں۔ مزید اقدامات آئندہ ہو سکتے ہیں،" ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے وضاحت کیے بغیر کہا۔

مسئلے پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے کی میزبانی میں اجلاس

فرانس 12 جون کو پیرس میں ایک اجلاس کی میزبانی کرنے والا ہے جس میں اسرائیل اور فلسطینی سول سوسائٹی گروپس اور ایک درجن کے قریب وزراء خارجہ مجتمع ہوں گے اور قومی سطح پر اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کا یہ اقدام اس اجلاس سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک غیر پابند اور جنرل اسمبلی کی توثیق کردہ قرار داد جسے نیویارک اعلامیے کا نام دیا گیا، میں فلسطینی ریاست کے لیے ایک روڈ میپ مرتب کیا گیا اور فرانس سمیت تقریباً ایک درجن ممالک نے ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔ یہ اجلاس اس اعلامیے کی منظوری کو ایک سال مکمل ہونے پر منعقد ہو گا۔

فرانسیسی حکام نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو بین الاقوامی ایجنڈے پر رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران اور لبنان میں جنگیں اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے سے توجہ ہٹا رہی ہیں جبکہ غزہ کے مستقبل پر بات چیت ایک نازک جنگ بندی کے باوجود تعطل کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں