ایران اور اسرائیل نے پیر کے روز ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ کی جنگ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد پہلی بار فریقین کے درمیان فائرنگ کے بعد ہوئی ہے۔
ایرانی مسلح افواج کی متحدہ قیادت جو خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے نام سے جانی جاتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ تہران نے پیر کے روز اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ختم کر دی ہیں۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے تو مزید شدید حملے کیے جائیں گے۔ ریڈیو پر نشر کیے گئے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے لبنان کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں کا دردناک جواب دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی "چینل 12" نے ایک اعلیٰ عہدے دار کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ایران پر فضائی حملے روک دیے ہیں۔ عہدے دار نے مزید کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی قصبوں پر حملے جاری رہے تو اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کرے گا۔ چینل کی رپورٹ میں اسرائیلی عہدے دار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے آئندہ دنوں میں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک اسرائیلی عہدے دار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پیر کے روز ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ عہدے دار نے مزید بتایا کہ یہ کال ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس بات کے اعلان سے قبل ہوئی کہ اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔
امریکہ کے صدر نے اس سے قبل پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی چاہتے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں مذاکرات کو جہالت یا حماقت کی وجہ سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ تبصرہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد پہلی فائرنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ فریقین اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن کے حوالے سے حتمی مذاکرات جاری ہیں جب تک کہ انہیں جہالت یا حماقت سے روکا نہ جائے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل ایک پوسٹ میں اسرائیل اور ایران پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر فائرنگ بند کر دیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ ایران کو شک ہے کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ رابطہ کاری کے بغیر تہران کے خلاف حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بقائی نے مزید کہا کہ کوئی بھی یہ یقین نہیں رکھتا کہ اسرائیل امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کاری کے بغیر اس طرح کے حملے کر سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ تہران کے امریکہ پر عدم اعتماد کو مزید ہوا دیتا ہے۔
تل ابیب اور تہران کے درمیان اتوار کی رات سے دو ماہ قبل ہونے والی کمزور جنگ بندی کے بعد پہلی بار محاذ آرائی دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ یہ کشیدگی ان سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جن کا مقصد مشرق وسطیٰ کی اس جنگ کا خاتمہ کرنا ہے جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔
یہ کشیدگی پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکی ایرانی مذاکرات کے دوران سامنے آئی ہے جو کچھ ہفتے قبل جنگ بندی کے ساتھ شروع ہوئے تھے اور اب تک کسی ایسے معاہدے تک نہیں پہنچ سکے جو تنازع کا خاتمہ کر سکے... حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کے قریب ہونے کے بارے میں امید کا اظہار کیا گیا تھا۔
-
ایران اور اسرائیل کے مابین محاذ آرائی کا دوبارہ آغاز، سفارتی امیدوں کو زک پہنچانے کا خدشہ
اسرائیلی حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے خلاف جوابی کارروائی سے ...
بين الاقوامى -
ایران اور اسرائیل کے مابین محاذ آرائی کا دوبارہ آغاز، سفارتی امیدوں کو زک پہنچانے کا خدشہ
اسرائیلی حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے خلاف جوابی کارروائی سے ...
مشرق وسطی -
کایا کالاس: سمندری ٹریفک روکنے پر یورپی یونین نے ایرانیوں پر پابندیاں لگا دی ہیں
یورپی یونین کی سربراہ خارجہ پالیسی کایا کالاس نے پیر کو کہا ہے کہ یورپی یونین نے ...
بين الاقوامى