ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ وہ تمام محاذوں پر ہر قسم کے حالات اور بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔ پیر کے روز جاری ایک بیان میں پاسداران نے تصدیق کی کہ اس نے اسرائیل میں دو فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے اندر تین مختلف مقامات پر واقع ریڈار تنصیبات پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق حملے میں جنوبی اسرائیل میں واقع نیواتیم اور وسطی اسرائیل میں واقع تل نوف کے اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جو اسرائیل کے اہم ترین فوجی اڈوں میں شمار ہوتے ہیں۔
مراسل العربية محمد الصياد: تقديرات إسرائيلية باستمرار تبادل الضربات مع إيران لعدة أيام.. والجيش يستعد لتجنيد واسع لقوات الاحتياط pic.twitter.com/BGs1frtdrf
— العربية (@AlArabiya) June 8, 2026
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ پیر کے روز ایران سے داغے گئے تمام میزائلوں کو یا تو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا یا وہ کھلے علاقوں میں گرے۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق ایتمار بستی میں ہونے والا دھماکہ کسی میزائل کے گرنے سے نہیں بلکہ مار گرانے کے عمل کے نتیجے میں ملبے کے گرنے سے ہوا ہے۔
یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب اسرائیلی فوج نے ایران کی طرف سے میزائل خطرات کا اعلان کیا۔ بیت المقدس میں میزائلوں کا پتہ چلنے کے بعد سائرن بج اٹھے اور نامہ نگاروں نے نابلس کے جنوب مشرق میں ایتمار بستی کے قریب ایک ایرانی میزائل گرنے کی اطلاع دی۔
اسرائیل نے پیر کی صبح سویرے مغربی اور وسطی ایران میں فوجی اہداف پر چھاپے مارے، جو بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے بعد کیے گئے۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق تہران اور دیگر شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے ایران میں "فوجی اہداف" کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا یہ نیا مرحلہ اتوار کی دوپہر بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملے کے چند گھنٹے بعد شروع ہوا۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے اور دھمکی دی کہ اگر لبنان پر حملے جاری رہے تو مزید "وسیع اور تکلیف دہ" رد عمل دیا جائے گا۔