جنوبی لبنان پر فضائی حملے... اسرائیل کا "حزب اللہ کو نشانہ بنانا جاری رکھنے" کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ العربیہ/الحدث کی نامہ نگار کے مطابق جنگی طیاروں نے نبطیہ الفوقا، کفررمان، حبوش اور قصبہ کفردونین کو نشانہ بنایا۔

اس کے علاوہ ان حملوں میں طیردبا، انصاریہ اور المساکن کے علاقے بھی متاثر ہوئے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے آج بدھ کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ وہ حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہے۔

فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے وضاحت کی کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں میزائل لانچرز اور ڈرون سمیت بنیادی ڈھانچے کو مسلسل ہدف بنا رہی ہیں۔

ترجمان نے نشان دہی کی کہ فوج نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صور شہر اور دیگر کئی علاقوں میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صور میں حزب اللہ کی طرف سے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی افواج کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے والی چھ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نشانہ بنائے گئے اہداف میں ایک ایسا مقام بھی شامل ہے جسے حزب اللہ اسرائیلی افواج کی جانب خودکش ڈرون لانچ کرنے کے لیے استعمال کرتی تھی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے دو روز قبل فیصلہ کیا تھا کہ اگر شمالی بستیوں پر کوئی بھی میزائل داغا گیا تو سیاسی منظوری کے بغیر بیروت پر بم باری کی جائے گی۔

اس کے جواب میں اسرائیلی وزیر دفاع نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران کی دھمکیوں اور لبنان اور ایران کو جوڑنے کی کسی بھی ایرانی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، اور اسرائیل پر حملے کا جواب انتہائی طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تہران نے بھی زور دیا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کے معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 2 مارچ سے جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے نہیں رکے ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب حزب اللہ نے سابق ایرانی رہبر علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے تھے۔

اس کے بعد سے اب تک اسرائیلی اور لبنانی وفود نے واشنگٹن میں براہ راست بات چیت کے چار ادوار منعقد کیے ہیں جس کے نتیجے میں جنگ بندی پر اصولی اتفاق ہوا۔ تاہم یہ اب تک برقرار نہیں رہ سکا ہے باوجود اس کے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اتحادی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کشیدگی کم کریں اور دارالحکومت بیروت پر بمباری نہ کریں۔

اس دوران اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں لبنان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3500 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ جنوبی لبنان، بیروت کے جنوبی مضافات اور ملک کے مشرق میں واقع بقاع سے تقریباً دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں