حزب اللہ کی سرگرمیاں قانون سے باہر ہیں: نواف سلام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ حزب اللہ کی سرگرمیاں قانون کے دائرے سے باہر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ طائف معاہدے کے مطابق لبنان کی ریاست کو اپنی پوری سرزمین پر مکمل اختیار قائم کرنا چاہیے۔انہوں نے "العربیہ" کو دیے گئے انٹرویو میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے لبنان کی برآمدات کو دوبارہ سعودی عرب کے لیے بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ نواف سلام نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام لبنان کی ترقی اور استحکام کے امکانات کو مضبوط بناتا ہے۔ان کے مطابق سعودی ولی عہد کا یہ فیصلہ لبنان کے لیے انتہائی اہم وقت میں سامنے آیا ہے، جب ملک سنگین معاشی اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔نواف سلام نے مزید کہا کہ لبنانی برآمدات کی سعودی عرب کو بحالی سے معاشی ترقی اور استحکام کے مواقع بڑھیں گے اور یہ ریاض کی جانب سے لبنان میں جاری اصلاحات اور اقدامات پر اعتماد کی علامت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنان نے گزشتہ عرصے میں اپنے عرب ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، اور ملک کو موجودہ معاشی و مالی بحران سے نکلنے کے لیے عرب برادر ممالک کی حمایت کی ضرورت ہے۔

ریاست ہی لبنان کی نمائندہ ہے

نواف سلام نے کہا ہے کہ ایران نے کبھی لبنان کی مدد نہیں کی، اور ان کے مطابق ایران کی جانب سے لبنان کے لیے بہترین خدمت یہ ہے کہ وہ اسے جنگ میں نہ جھونکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اسرائیل پر حملے دراصل لبنان کو مزید جنگ میں دھکیلنے کے مترادف ہیں، نہ کہ اس کی حمایت۔انہوں نے زور دیا کہ لبنان کی جانب سے کسی بھی مذاکرات کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، اور طائف معاہدے کے مطابق پورے ملک پر ریاستی رٹ قائم ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق حزب اللہ کی سرگرمیاں قانون کے دائرے سے باہر ہیں۔لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات لبنان کے لیے سب سے کم نقصان دہ راستہ ہیں، تاہم یہ بات واضح کی کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کو صرف ریاستی اداروں کے ذریعے ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے، کیونکہ صرف ریاست ہی عوام کی نمائندگی اور مفادات کے تحفظ کی مجاز ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لبنان اپنی مکمل ریاستی عملداری قائم کرنے میں بہت تاخیر کر چکا ہے، اور موجودہ مرحلہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ملک بھر میں ریاستی اداروں، سیکیورٹی فورسز اور انتظامی ڈھانچے کی موجودگی اور اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کیا جائے۔

بنیادی شرط

لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے زور دیا ہے کہ ملک کے مستقبل یا سلامتی سے متعلق کسی بھی قسم کے مذاکرات صرف ریاست کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق سیاسی اور سکیورٹی فیصلوں پر ریاست کی مکمل اجارہ داری استحکام کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔حالیہ سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ اپنی اصل میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک تنازع ہے جو لبنان کی سرزمین پر لڑی جا رہی ہے، اور اس کا بوجھ لبنانی عوام اٹھا رہے ہیں حالانکہ یہ تنازعات ان کی سرحدوں سے باہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ لبنان کے مفاد میں یہی ہے کہ اسے علاقائی تنازعات سے دور رکھا جائے اور ریاستی اداروں کو مضبوط کیا جائے تاکہ اندرونی استحکام برقرار رہے اور ملک کے عرب و بین الاقوامی تعلقات محفوظ رہیں۔نواف سلام کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لبنان میں حزب اللہ کے اسلحے کے مستقبل اور ریاست کے سکیورٹی کردار پر بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ ساتھ ہی ملک کے عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں