حزب اللہ پہلے سے کہیں زیادہ کمزور، اس کے 10 ہزار ارکان کو مار دیا: نیتن یاہو

حزب اللہ سے لڑ رہے لبنانی عوام سے نہیں، امن کی راہ میں واحد رکاوٹ حزب اللہ ہے: اسرائیلی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اب تک حزب اللہ کے لگ بھگ 10 ہزار ارکان کو ختم کرنے کا اعلان کردیا اور کہا ہے کہ تنظیم پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔

نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم منظم طریقے سے جنوبی لبنان کو حزب اللہ سے پاک کر رہے ہیں۔ تنظیم حزب اللہ اسرائیل کے خلاف حملے شروع کرنے کے لیے لبنان کی سرزمین کا استعمال کرتی ہے۔

لبنان کے ساتھ امن کے خواہاں

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ لبنانیوں کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ اسرائیل آپ کے ساتھ جنگ کی حالت میں نہیں ہے۔ ہم حزب اللہ سے لڑ رہے ہیں، لبنانی عوام سے نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ امن کا خواہاں ہے۔ لبنان کے ساتھ امن کی راہ میں واحد رکاوٹ حزب اللہ ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے اپنے بیان کے مطابق اعلان کیا ہے کہ اس نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا ہے اور صور اور جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں میں متعدد تخریب کاروں کو ختم کردیا ہے۔

صہیونی فوج نے بتایا کہ ایک فضائی حملے کے فریم ورک کے اندر اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ایک گودام پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد ثانوی دھماکے دیکھے گئے جس سے گوادام کے اندر مزید ہتھیاروں کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی۔

دو مارچ

یاد رہے گزشتہ 2 مارچ سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہیں جب حزب اللہ نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں شمالی اسرائیل کی طرف میزائل داغے تھے

اس کے جواب میں اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان، ملک کے مشرقی علاقے بقاع اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) پر شدید فضائی حملے کیے۔ اس وقت سے واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات کے 4 دور منعقد ہونے کے باوجود اسرائیلی حملے نہیں رکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں