شمالی سعودیہ میں 34 ملین سال پرانےسمندری ذخائرکی دریافت،کنگ عبدالعزیزیونیورسٹی کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم جس کی قیادت کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ،اس نے سعودی عرب کے شمال مغرب میں پہلی بار اولیگوسین (Oligocene) دور سے تعلق رکھنے والے سمندری ذخائر کی توثیق کی ہے۔

یہ اہم زمین کے اندر کی دریافت الجوف ریجن کے شہر القریات میں کی گئی، جسے ''القریات کی ارضیاتی تشکیل'' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دریافت پہلی مرتبہ عالمی سائنسی لٹریچر میں باقاعدہ طور پر درج ہوئی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج اٹلی کے معروف سائنسی جریدے Rivista Italiana di Paleontologia e Stratigrafia میں شائع کیے گئے، جو فوسلز اور ارضیاتی طبقات کی تحقیق کے لیے مخصوص ہے۔

اس مطالعے میں سعودی عرب، مصر اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے آٹھ محققین نے حصہ لیا، جن میں سے پانچ کا تعلق کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی سے ہے۔

ارضیاتی تاریخ کی نئی تشکیل

اس تحقیق نے شمال مغربی سعودی عرب میں پائی جانے والی پیلیوجین (Paleogene) دور کی سمندری تہوں کی طبقاتی ترتیب کو دوبارہ واضح کیا ہے، جس سے علاقے کی ارضیاتی تاریخ کی نئی تشریح سامنے آئی ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ پہلے جن طبقات کو '' الرشراشیہ کی چٹانی تشکیل ''سمجھا جاتا تھا، وہ دراصل ایک واحد ارضیاتی اکائی نہیں ہیں بلکہ دو الگ اکائیوں پر مشتمل ہیں۔پہلی اکائی وسط اور آخری ایوسین (Eocene) دور سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ دوسری اکائی جسے'' القریات کی چٹانی تہہ ''کا نام دیا گیا ہے، ابتدائی اولیگوسین (Oligocene) دور سے متعلق ہے۔

باریک فوسلز سے حقیقی عمر کا تعین

تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر محمد الجحدلی نے وضاحت کی کہ اس مطالعے میں انتہائی باریک سمندری فوسلز ''کاکولیتھس'' (Coccoliths) کا تجزیہ کیا گیا، جو چونے پر مشتمل خوردبینی سمندری جانداروں کی باقیات ہیں اور چٹانوں کی عمر کا درست تعین کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اس تکنیک کی مدد سے محققین نے پانچ مختلف حیاتیاتی زونز کی نشاندہی کی جو ایک تسلسل میں پھیلے ہوئے ہیں اور تقریباً 41 سے 33 ملین سال پرانی مدت کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس سے تلچھٹی (sedimentary) تہوں کی تاریخ متعین کرنے کے لیے ایک نہایت درست زمانی فریم ورک حاصل ہوا۔

اقتصادی اور تحقیقی اہمیت

یہ تحقیق اقتصادی لحاظ سے بھی نہایت اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ پیلیوجین دور کے یہ سمندری ذخائر عموماً عرب پلیٹ میں موجود ہائیڈروکاربن ذخائر (تیل و گیس کے ذخائر) سے جڑے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ تحقیق جس علاقے میں کی گئی ہے ،وہ سرحان،طریف بیسن کے دائرے میں آتا ہے، جو سعودی عرب کے سب سے بڑے فاسفیٹ ذخائر پر مشتمل ہے۔

محققین کے مطابق یہ دریافت ارضیاتی ماڈلز کو بہتر بنانے اور قدرتی وسائل کی تلاش (exploration) کے عمل کی کارکردگی بڑھانے میں مدد دے گی۔

عالمی موسمیاتی تبدیلی کی پہلی توثیق

اس تحقیق نے پہلی بار شمال مغربی سعودی عرب میں ایوسین،اولیگوسین (Eocene–Oligocene) واقعے کے آثار کو دستاویزی شکل میں پیش کیا ہے، جو زمین کی تاریخ کے اہم ترین موسمیاتی تبدیلیوں میں شمار ہوتا ہے۔یہ وہ دور تھا جب عالمی درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی اور انٹارکٹیکا میں برفانی تہوں کی تشکیل کا آغاز ہوا۔

نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس خطے میں ہونے والی ارضیاتی تبدیلیاں مقامی ٹیکٹونک عوامل کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر سمندری سطح میں تبدیلیوں سے بھی متاثر ہوئیں۔

یہ معلومات خطے کے ایک اہم ارضیاتی ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہیں، جو لاکھوں سال کے دوران عرب پلیٹ کی ارتقائی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں