ایران کے ساتھ چند گھنٹوں میں معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے: ٹرمپ

معاہدے پر دستخط الیکٹرانک طریقے سے، ہفتے بعد یورپ میں بالمشافہ ہوں گے: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بیروت میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملے پر اپنی شدید ناراضی سے آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے نے ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے میں الجھن اور تاخیر پیدا کی تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دستخط اگلے چند گھنٹوں میں ہو جائیں گے۔

ٹرمپ نے ویب سائٹ "ایکسیوس" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو ایک واضح پیغام بھیجا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جنوبی مضافاتی علاقے (الضاحیہ) میں فوجی آپریشن سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے یہ حملہ کیوں کیا؟ حزب اللہ نے فائرنگ کی اور ایک ایسے علاقے کو نشانہ بنایا جہاں کچھ بھی نہیں تھا اور کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔ پھر انہیں یہ کمبخت حملہ کرنا پڑا اور وہ بھی بیروت میں۔ اس بات نے مجھے بہت ناراض کیا ہے۔

اسرائیل کے مفاد میں

امریکی صدر نے بحران سے نمٹنے کے نیتن یاہو کے طریقے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ سازی میں نیتن یاہو کے پاس بالکل بھی بہتر سوجھ بوجھ نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے یہ موقف براہ راست اسرائیلی وزیر اعظم تک پہنچا دیا ہے۔

ایران کے ساتھ متوقع معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ اسرائیل کے مفاد میں ہے کیونکہ یہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے کے نوٹس کی مہلت کے اندر مشتبہ ایرانی تنصیبات پر سخت معائنے کا طریقہ کار نافذ کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ معاہدہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کر دے گا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ معاہدے پر آج (اتوار) صبح دستخط ہونا طے تھے لیکن بیروت پر اسرائیلی حملے کے باعث اس عمل میں تاخیر ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ دستخط اگلے چند گھنٹوں میں ہو جائیں گے لیکن اسرائیلی حملے نے چیزوں کو ہلا کر رکھ دیا اور الجھا دیا۔

ٹرمپ نے "فوکس نیوز" کو دیے گئے ایک اور بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ آج معاہدے پر دستخط الیکٹرانک طریقے سے ہوں گے اور ایک ہفتے بعد یورپ میں بالمشافہ ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں تہران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی محاصرہ ختم کرنے کی ہدایت کروں گا۔

مثبت اور تیز رفتار

اسی سیاق و سباق میں مذاکرات سے واقف ایک اہلکار نے "رائٹرز" ایجنسی کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات مثبت انداز میں اور تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ثالث امریکی-ایرانی معاہدے کے جلد مکمل ہونے کے بارے میں پرامید ہیں۔

’’ العربیہ ‘‘ کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک قطری وفد اس وقت اسلام آباد جا رہا ہے۔ امریکی صدر اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز کو اعلان کیا تھا کہ وہ اتوار کو معاہدے پر دستخط کی توقع کر رہے ہیں۔ واضح رہے تہران نے دستخط کے وقت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ایک قطری وفد مفاہمت کی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے صبح تہران پہنچا۔ یاد رہے پاکستان نے گزشتہ مہینوں کے دوران دونوں فریقوں کے نقطہ نظر کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ قطر بھی حال ہی میں امریکی اور ایرانی فریقوں کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی لائن میں شامل ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں