تین ماہ سے بھی زیادہ عرصہ قبل ایران پر امریکی اسرائیلی کے حملوں سے شروع ہونے والی علاقائی جنگ کا عظیم ترین نقصان لبنان کو پہنچا ہے۔
یہ تنازعہ دو مارچ کو لبنان تک پھیل گیا جب ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے تہران کی حمایت میں اسرائیل پر فائرنگ کی جس سے اسرائیل کی فضائی اور زمینی مہم شروع ہو گئی۔
لبنان کے چند بڑے نقصانات یہ ہیں:
ہلاکتیں
ملک کی وزارتِ صحت کے مطابق دو مارچ سے 14 جون کو امریکہ-ایران معاہدے کا اعلان ہونے تک لبنان میں کم از کم 3,783 افراد ہلاک اور 11,699 زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان میں 247 بچے، 363 خواتین اور 133 صحت کے کارکنان شامل ہیں۔ وزارت کے اعداد و شمار عام شہریوں اور مزاحمت کاروں میں فرق نہیں کرتے اور حزب اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے کتنے مزاحمت کار ہلاک ہوئے۔
یہ تعداد اکتوبر 2023 سے نومبر 2024 تک جاری رہنے والے آخری اسرائیل-حزب اللہ تنازعے کے لیے وزارت کے اعداد و شمار سے بھی زیادہ ہے۔ اُس جنگ میں 3,768 ہلاکتیں ہوئیں جن میں سے زیادہ تر افراد ستمبر 2024 میں اسرائیل کے حملے کے بعد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے اعلانات کے مطابق تازہ ترین جنگ میں لبنان میں کم از کم 28 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حزب اللہ کے حملوں میں چار شہری جان سے گئے۔ یہ 2023-2024 کی جنگ میں شمالی اسرائیل میں 73 اسرائیلی فوجیوں اور 45 عام شہریوں سے بہت کم ہے۔
تباہی
اسرائیل کے فضائی حملوں میں لبنان کے طول و عرض میں عمارات کو نقصان پہنچا اور تباہی ہوئی ہے۔ زیادہ تر نقصان جنوب میں مرتکز رہا ہے لیکن دارالحکومت اور اس کے جنوبی مضافات میں بھی عمارات تباہ ہوئیں۔
ملک کے جنوبی حصے پر قابض اسرائیلی فوجیوں نے وہاں کے درجنوں دیہات کو بھی مسمار کر دیا ہے جن کا بیان ہے کہ ان کا مقصد شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کو شہری علاقوں میں سرایت کردہ حزب اللہ مزاحمت کاروں کے حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مہینے میں جنوب میں جن عمارات کو نقصان پہنچا، ان میں ہسپتال، بجلی گھر اور واٹر پمپنگ سٹیشن شامل تھے۔
لبنان کی نیشنل کونسل فار سائنٹیفک ریسرچ کے دو مارچ سے 17 مئی تک کا احاطہ کرنے والے تازہ ترین اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پورے ملک میں 68,000 سے زیادہ رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے۔ ان میں سے تقریباً 30,000 مکانات لبنان کے تین انتہائی جنوبی اضلاع میں اور 8,000 سے زیادہ بیروت اور اس کے جنوبی مضافات میں ہیں۔
اس ماہ شائع کردہ ایک رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے کہا کہ صرف بیروت اور جنوبی مضافاتی علاقوں میں 365 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اسرائیل کی جانب سے عمارتوں کی تباہی اور جانی نقصان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقید کی۔
ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "کسی کو تلاش کرنے کے لیے آپ کو پوری عمارت گرا دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان مکانات میں کئی لوگ ہوتے ہیں اور وہ تمام حزب اللہ کے لوگ نہیں ہیں، یہ میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔"
نقلِ مکانی
لبنانی حکام کے مطابق دو مارچ سے پورے لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملوں اور انخلاء کے انتباہات سے 1.2 ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
ان میں وہ لاکھوں لوگ شامل ہیں جو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں سے فرار ہو گئے تھے جنہیں اسرائیل کی فوج نے اس جنگ کے دوران پہلی بار مکمل طور پر خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ امریکہ-ایران معاہدے کا اعلان ہو جانے کے بعد بھی بڑی تعداد میں بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس نہیں آئے - یا تو اس لیے کہ ان کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی گھر نہیں تھا یا انہیں لبنان میں جنگ بندی برقرار رہنے کا یقین نہیں تھا۔
اقتصادی اثرات
لبنان کے حکام نے تاحال جنگ کے مکمل معاشی اثرات کا اندازہ نہیں لگایا لیکن کہا ہے کہ حالیہ بحرانوں کے ایک سلسلے سے ملک کی بحالی کا عمل پٹری سے اتر گیا جس میں 2023-2024 کی جنگ، 2020 کا بیروت بندرگاہ کا دھماکہ اور 2019 کا مالیاتی انہدام شامل ہے۔
وزیرِ خزانہ یاسین جابر نے مئی میں رائٹرز کو بتایا تھا، جنگ سے اس سال لبنان کی معیشت میں کم از کم سات فیصد کی کمی ہو سکتی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 2024 کی جنگ میں لبنان کو کم از کم 8.5 بلین ڈالر کا مادی اور معاشی نقصان پہنچا۔ عالمی بینک نے کہا کہ لبنان کی حقیقی جی ڈی پی میں 2024 میں 7.1 فیصد کمی واقع ہوئی جو 2019 کے بعد سے مجموعی جی ڈی پی میں تقریباً 40 فیصد کمی کا باعث بنی۔
-
ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیل کے طریقۂ کار پر تنقید کی: شہری ہلاکتوں کا الزام
ٹرمپ نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کو پورے رہائشی عمارتیں ...
بين الاقوامى -
امریکی ایرانی معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے
اسرائیلی حملوں میں قصبہ النبطیہ الفوقا، قریبی قصبے کفرتبنیت کے مشرقی اطراف اور ...
مشرق وسطی -
لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر ایران کا شدید ردعمل، جوابی اقدام کی دھمکی
حزب اللہ کا خیال ہے کہ ایران اس وقت تک واشنگٹن کے ساتھ جوہری معاہدہ نہیں کرے گا، ...
مشرق وسطی