ایران کی مشترکہ اعلیٰ عسکری قیادت ''ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء'' نے منگل کے روز اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنوبی لبنان پر حملے بند نہ کیے تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہیں کرتی تو اسے ایران کی طاقتور مسلح افواج کے شدید جواب کا انتظار کرنا چاہیے۔
ایرانی قیادت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیل 84 مرتبہ لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب چند روز قبل تہران اور واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (مذکرۂ تفاہم) پر دستخط کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب حزب اللہ کے میڈیا تعلقات کے شعبے کے مطابق تنظیم کا خیال ہے کہ ایران اس وقت تک امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ نہیں کرے گا، جب تک اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلاتا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی افواج کی مسلسل موجودگی امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے، جس پر اس نے حزب اللہ کے خلاف تقریباً تین ماہ جاری رہنے والی فضائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران کنٹرول حاصل کیا تھا۔ یہ کارروائیاں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے 2 مارچ کو اسرائیل پر حملے کیے تھے۔
اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد لبنان میں لڑائی میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم جھڑپیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ اس کی افواج جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی، جبکہ حزب اللہ نے اس موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں اسرائیلی انخلا کے لیے دباؤ ڈالے
گا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعہ کے روز متوقع ہیں، جس کے بعد مذاکرات کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔
حزب اللہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے رائٹرز کو بتایا: ہمارا خیال ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت تک کوئی جوہری معاہدہ نہیں ہوگا جب تک اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرتا۔یہ پہلا موقع ہے کہ حزب اللہ نے ممکنہ جوہری معاہدے کو اسرائیلی انخلا کے ساتھ جوڑا ہے۔
تاہم تنظیم نے واضح کیا کہ اسرائیلی انخلا کسی معاہدے کی پیشگی شرط نہیں بلکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان آئندہ مذاکرات کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ایک ممکنہ مقصد ہے۔
حزب اللہ کے مطابق ایران نے اسے یقین دہانی کرائی ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کی کسی بھی اسرائیلی خلاف ورزی کا اثر امریکہ کے ساتھ ہونے والے آئندہ مذاکرات پر پڑے گا۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے لبنان کے تنازع کا حل بھی ضروری ہے، جس میں لبنانی سرزمین پر قبضے کا خاتمہ شامل ہے۔
انہوں نے کہا: اس جنگ کے دوران جن لبنانی علاقوں پر قبضہ کیا گیا، وہاں سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے بغیر جنگ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
عراقچی نے مزید کہا کہ لبنان پر کسی بھی نئے اسرائیلی حملے یا لبنانی علاقوں پر قبضے کے تسلسل کو ایران امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کرے گا۔