امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد قطر کا علاقائی مذاکرات پر زور
قطر جنیوا میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کرے گا
قطر نے جمعہ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد علاقائی مذاکرات پر زور دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ دستخط مستقبل میں "ثمر آور" مذاکرات کا آغاز ثابت ہوں گے۔
واشنگٹن اور تہران نے ہفتوں پر محیط مذاکرات کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس پر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے انکشاف کیا کہ ریاست قطر ثالثی کی کوششوں کی مسلسل حمایت اور پرامن حل کو فروغ دینے کے عزم کے تحت جنیوا میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کرے گی۔
ایک ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ قطر نے فائر بندی کو مستحکم کرنے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرنے کے لیے متفقہ لابی تک پہنچنے کی پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
أبرز ما جاء في الإحاطة الإعلامية الأسبوعية للدكتور ماجد بن محمد الأنصاري @majedalansari مستشار رئيس مجلس الوزراء المتحدث الرسمي لوزارة الخارجية#الخارجية_القطرية pic.twitter.com/qtJIUnnWPx
— الخارجية القطرية (@MofaQatar_AR) June 16, 2026
دریں اثنا قطر کے دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دوحہ نے پاکستانی ثالثی اور اس بحران میں مرکزی ثالث کے طور پر ادا کیے گئے اہم کردار کو سراہا ہے اور اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ دوحہ ان کوششوں کے ساتھ شراکت داری اور حمایت جاری رکھے گا جن کا مقصد کشیدگی کو ختم کرنا اور پرامن حل کو فروغ دینا ہے۔
اسی تناظر میں قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ امریکی و ایرانی مذاکرات میں خلیجی ممالک کی سکیورٹی اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر بحران کے اثرات کو مدنظر رکھا گیا ہے جن میں توانائی کی فراہمی اور غذائی تحفظ شامل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست قطر اور اس کے شہریوں نیز وہاں مقیم افراد کی سکیورٹی کو برقرار رکھنا اور اس کی قومی سلامتی کا تحفظ تمام اقدامات اور مؤقف میں بنیادی ترجیح ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ قطر نے اس بات کی تصدیق کی کہ جمہوریہ لبنان کی خودمختاری ایک سرخ لکیر ہے اور اس کی سرزمین پر حملوں کے جاری رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ یہ اس کی سکیورٹی، استحکام اور عوام کی حفاظت کے لیے خطرہ ہیں۔