امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ لبنانی اسرائیلی مذاکرات کا اگلا دور 23 سے 25 جون تک واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔ یہ اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد کیا گیا ہے۔
واشنگٹن کی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ روبیو نے حزب اللہ کے اسلحہ کی دستبرداری کی ضرورت پر ایک مرتبہ پھر زور دیا اور ایک ایسی مکمل خودمختار لبنانی ریاست کے قیام کے لیے لبنانی حکومت کی کوششوں کے لیے امریکی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا جو اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے دوران لبنانی فوج کے ذریعے حزب اللہ کے ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کے منصوبے کے لیے تجرباتی علاقے متعین کیے جائیں گے۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے آگے بڑھائے جانے والے منصوبے کے مطابق یہ علاقے ان مقامات پر ہوں گے جہاں اس وقت اسرائیلی فوج کی فورسز موجود ہیں جس کے نتیجے میں سکیورٹی پٹی کے کچھ حصوں سے اسرائیلی افواج کا جزوی انخلا ہو سکتا ہے۔
بنیادی ستون
دوسری جانب لبنانی صدر نے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا کہ جامع جنگ بندی اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی پیش رفت کے لیے ایک بنیادی ستون ہے۔ یہ مذاکرات اگلے ہفتے واشنگٹن میں دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔
صدارتی بیان کے مطابق لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامع جنگ بندی کو لبنان اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے لبنانی-امریکی-اسرائیلی مذاکرات کی پیش رفت کے لیے ایک بنیادی ستون سمجھتا ہے۔
یہ رابطہ جمعہ کے روز اسرائیلی خونی کشیدگی کے بعد ہوا جس کے نتیجے میں لبنانی حکام کے مطابق کم از کم 47 افراد جاں بحق ہوگئے۔
یہ اموات اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کی فائرنگ سے اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوئیں۔ جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ دونوں فریقوں نے ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ قبل ازیں لبنان میں لڑائی کی شدت نے ایران میں جنگ ختم کرنے کی عارضی مفاہمت کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کے امکانات کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔