یونینز اور جہازرانی کے آجروں نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کم از کم نو جولائی تک آبنائے ہرمز کی جنگی کارروائیوں والے علاقے کے طور پر نامزدگی جاری رکھیں گے جس سے ایک نازک جنگ بندی کے باوجود علاقے میں سمندری عملے کے لیے دوگنا معاوضہ برقرار رہے گا۔
یہ حیثیت صرف ان بحری جہازوں کا احاطہ کرتی ہے جن کی کمپنیاں انٹرنیشنل بارگیننگ فورم (آئی بی ایف) کے لیبر معاہدوں کی دستخطی ہیں - آئی بی ایف کے مطابق تمام دنیا میں تقریباً 15,000 ایسے جہاز ہیں۔
آبنائے اور اس کے آس پاس کے پانیوں میں بحری جہازوں پر کام کرنے والے ایسے عملے کو دوگنا معاوضہ دیا جاتا ہے جو لیبر معاہدے کے ماتحت آتے ہیں اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس علاقے میں جہازرانی کرنے سے انکار کر دیں اور کمپنی کے خرچ پر وطن واپسی کی درخواست کریں جس سے جہازراں کمپنیوں کے اخراجات بڑھتے ہیں۔
بین الاقوامی ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن (آئی ٹی ایف) اور میری ٹائم انڈسٹری کے آجروں کے نمائندہ جوائنٹ نیگوشیئٹنگ گروپ (جے این جی) کے مشترکہ بیان میں کہا گیا، "یہ فیصلہ زندگی کے لیے مسلسل اور اہم خطرے اور علاقے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال کو تسلیم کرتا ہے۔"
آئی بی ایف کا یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب دو جہازوں پر حملہ ہوا۔
جہازوں پر پہلے حملے کے چار دن بعد آبنائے کو سب سے پہلے آئی بی ایف نے پانچ مارچ کو جنگی کارروائیوں کا علاقہ قرار دیا تھا۔
تجارتی جہاز یکم مارچ سے بہت زیادہ متأثر ہوئے ہیں جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اہم گذرگاہ بند کر دی تھی۔
اس تنازعے کے دوران بحری عملے کے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 40 سے زیادہ بحری جہازوں پر حملہ ہوا ہے۔
تازہ ترین حملے گذشتہ ہفتے جمعرات اور ہفتہ کو ہوئے جس سے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) خلیج میں بدستور پھنسے ہوئے 11,000 سمندری مسافروں کو نکالنے کا ایک مختصر مدتی منصوبہ معطل کرنے پر مجبور ہو گئی۔
معاملے سے واقف ایک ذریعہ نے اے ایف پی کو بتایا، "گذشتہ جمعرات کے بعد سے اگر بحری جہازوں پر دو الگ الگ دنوں میں حملے نہ ہوتے اور ان کا داخلہ اور خروج بآسانی جاری رہتا تو امکان ہے کہ اس ہفتے تبدیلی دیکھی جا سکتی تھی۔"
بیان میں کہا گیا کہ جنگی کارروائیوں کی نامزدگی کے تعین کی ذمہ دار مشترکہ کمیٹی ہفتہ وار جائزہ اجلاس دوبارہ شروع کرے گی۔
ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ مئی کے آغاز میں ہفتہ وار اجلاس روک دیے گئے تھے جب یہ واضح ہو گیا کہ آبنائے میں صورتِ حال بہتر نہیں ہو رہی تھی۔
-
امریکی ناکہ بندی کے دوران ایران ’ایک بھی بیرل تیل‘ برآمد نہیں کر سکا: قالیباف
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک ...
مشرق وسطی -
امریکہ ایران معاہدے کے بعد قطر میں مذاکرات کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں
ایران نے کہا ہے کہ وہ بدھ کو قطری ثالثین سے ملاقات کر رہا ہے تاکہ امریکہ سے ...
مشرق وسطی -
امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ مذاکرات... رقوم پر ابتدائی اتفاق اور ہرمز پر بات چیت جاری
جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے 18 اگست کی مہلت سے تجاوز کرنے پر کوئی اعتراض نہیں : ...
مشرق وسطی