ایک فلسطینی محمد سلامہ اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے خاندان کے لیے ایک گھر بنا رہے تھے جہاں ان کے حال ہی میں منگنی کرنے والے بیٹے کی شادی شدہ زندگی شروع ہونا تھی۔ لیکن تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی اسرائیلی آبادکاروں کے ایک گروپ نے جائیداد پر قبضہ کر لیا۔
ہفتے کے شروع میں فلمبند کردہ اور رائٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیو میں کم از کم چھے آبادکاروں کو دو منزلہ مکان کی چھت پر گھومتے ہوئے دکھایا گیا جو ایک قریبی پہاڑی کے نیچے واقع ہے۔
سلامہ نے کہا کہ اسرائیلی فوج اور پولیس سے اپیلوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب انہیں اپنے گھر سے خوف آتا ہے جو فلسطینی سرزمین کے کئی دیگر مکانات کی طرح اسرائیلی آبادیوں اور چھوٹی چوکیوں سے گھرا ہوا ہے اور ہمیشہ کے لیے کھو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے دیگر گھروں کا بھی یہی انجام ہو سکتا ہے۔
سلامہ نے کہا، "صرف خدا ہی جانتا ہے، اگر کبھی امن و امان ہوا تو وہ چلے جائیں گے۔ اگر وہ ایک مکان لینے میں کامیاب ہو گئے تو باقیوں کے ساتھ بھی یہی کریں گے۔" اس پر تبصرے کے لیے رائٹرز کا آبادکاروں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ ان میں سے ایک کو جمعرات کو گھر کی چھت پر چلتے پھرتے دیکھا گیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ تبصرہ کے لیے رائٹرز کی درخواست کا جائزہ لے رہی تھی لیکن جمعہ تک کوئی جواب نہیں دیا۔
نیتن یاہو حکومت میں غیر قانونی آبادیوں، آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ
آبادکاروں کا فلسطینی اراضی پر قبضہ مغربی کنارے کی زندگی کی ایک دیرینہ خصوصیت ہے۔ فلسطینیوں نے برسوں سے کھیتوں کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ اور آبادیوں کی توسیع سے منسلک حملوں کی اطلاع دی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک انکوائری میں گذشتہ ماہ پتا چلا کہ 2023 سے فلسطینی دیہات اور زرعی اراضی پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں 130 فیصد اضافہ ہوا۔ سلامہ کے گاؤں جالود کے رہائشیوں کا بیان ہے کہ اس ہفتے کا واقعہ ایک اور پریشان کن کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ آباد کاروں نے ایک مکان پر قبضہ کر لیا جو ابھی زیرِ تعمیر تھا۔
"وہ اب جالود کے آخری گھر پر چلے گئے ہیں جو ایک رہائشی کا زیرِ تعمیر مکان ہے،" گاؤں کی کونسل کے سربراہ رائد الحاج محمد نے کہا۔
انہوں نے کہا، جالود کو آبادکاروں کے پانچ بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں گھروں کو جلانا، گاڑیوں کو نقصان پہنچانا اور درختوں کو اکھاڑنا شامل ہے۔
چوتھے جنیوا کنونشن میں شہری آبادی کو مقبوضہ علاقے میں منتقل کرنے پر پابندی کے حوالے سے زیادہ تر ممالک اور اقوامِ متحدہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں۔
اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مغربی کنارہ متنازعہ علاقہ ہے جہاں ہزاروں سالوں سے یہودی موجود ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔
یہودی آبادیوں کی تعمیر اور آبادکاروں کا تشدد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیامِ امن کی کوششوں میں طویل عرصے سے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے سخت ترین اتحادیوں بشمول امریکہ نے بھی آبادکاروں کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔
اس کے باوجود وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے تحت یہودی آبادیوں کی توسیع میں تیزی آئی ہے جو اپنی پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے آبادکاری کی حامی سخت گیر جماعتوں پر انحصار کرتی ہے۔
سلامہ کے لیے یہ تنازعہ دردناک طور پر ذاتی نوعیت کا ہے۔ 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد گھر کی تعمیر رک گئی جب ان کے بیٹے کو کام ملنا بند ہو گیا اور خاندان مالی دباؤ میں آگیا۔
انہوں نے کہا، "قریبی ہمسایہ خاندان نے ایک دو منزلہ مکان بنایا ہے اور یہ بھی شاید وہ لے لیں گے۔ اگر ہم نے یہ گھر کھو دیا تو وہ بھی اپنے گھر سے محروم ہو جائیں گے۔"