اسرائیلی حکومت: میڈیا ریگولیٹر سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کریں گے

حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کا اولین موقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی کابینہ کے ارکان نے اتوار کو ملک کے براڈکاسٹ ریگولیٹر کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا جس سے آئینی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ اولین موقع ہے جب وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے حالانکہ ماضی میں اس کا عدلیہ سے تصادم ہوتا رہا ہے۔ 2022 میں انتخابات کے بعد حکومت نے عدالت کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی جو عالمی تنقید اور اسرائیل میں وسیع پیمانے پر مظاہروں کی وجہ بنا۔ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد عدالتی اصلاحات کو روک دیا گیا تھا اگرچہ اس کے بعد سے بعض حصوں پر دوبارہ عمل کیا گیا ہے۔

اسرائیلی قانون کے مطابق ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی دوسری اتھارٹی کو فیصلے کرنے کے لیے ارکان کی کم از کم تعداد درکار ہوتی ہے۔ حکومت کا استدلال ہے کہ کونسل اب چونکہ اس ضرورت کو پورا نہیں کرتی تو اسے تقرریوں کی منظوری یا دیگر اقدامات کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

تاہم 17 جون کو عدالت نے کونسل کو بہرحال جاری رکھنے کا حکم دیا۔

وزیرِ مواصلات شلومو کارہی اور وزیرِ انصاف یاریو لیون نے ایک بیان میں کہا کہ کابینہ نے اتوار کو عدالتی فیصلہ مسترد کرنے کے حق میں متفقہ طور پر ووٹ دیا۔ اس فیصلے کی حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے خاصی مذمت کی جو آئندہ انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے کہا، "حکومت مجرم بن چکی ہے"۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "یہ اسرائیل کی تاریخ کا سنگین ترین آئینی بحران ہے۔ یہ ہماری جمہوریت کی بنیادوں کی تباہی ہے۔"

عدالتی تبدیلیوں کے ایک اہم حامی کارہی اور لیون نے تجویز پیش کی کہ حکومت اس وقت تک کونسل کے کسی فیصلے یا اقدامات کو تسلیم نہ کرے جب تک رکنیت کی قانونی حد پوری نہ ہو جائے۔

اپنے ووٹ میں کابینہ نے کہا کہ عدالت کو قانون کو پامال کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ کابینہ نے کہا، " ہم فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے اپنے اختیار میں تمام قانونی ذرائع سے کام لیں گے۔ قانون سے متصادم حکم تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اس کے تحت کیے گئے فیصلے کالعدم ہیں۔"

کارہی نے عدالت پر تنقید کرتے ہوئے کہا، جج پارلیمنٹ نہیں ہیں۔ میڈیا ریگولیٹر مستقبل میں جو بھی فیصلے کرے گا وہ "بے وقعت" ہو گا۔

لیون نے مزید کہا، جب پارلیمنٹ کوئی قانون بناتی ہے تو عدالت کو اس کی پابندی کرنی چاہیے۔ جبکہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی نافرمانی کے بیانات سے قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا، "میں پہلے ہی واضح کر چکا ہوں اور بار بار دہراؤں گا کہ عدالتی فیصلے کی نافرمانی ایک سرخ لکیر ہے جو کسی بھی صورت عبور نہیں کرنی چاہیے۔

کابینہ کے سیکریٹری یوسی فوکس نے وزراء کی بیان بازی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا فیصلہ نہ ماننے کا کوئی مطالبہ نہیں تھا بلکہ حکومت کے قانون سے متصادم فیصلے پر "تیز تنقید" تھی۔ "حکومت نے اعلان کیا کہ وہ مستقبل میں اس فیصلے کی خلاف ورزی پر اپنے اختیار میں تمام قانونی ذرائع کا استعمال کرے گی۔ قانونی ذرائع کسی حکم کی نافرمانی کیسے بن جاتے ہیں؟" فوکس نے ایکس پر لکھا۔

آئینی بحران کا خدشہ

نیتن یاہو نے کابینہ کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن ان کے حریفوں نے ضرور کیا جبکہ قانونی ماہرین نے آئینی بحران کے خدشات ظاہر کیے۔

"عدالتی فیصلوں پر عمل نہ کرنے سے سڑکوں پر انتشار اور ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا،" 2021 سے 2022 تک وزیر اعظم رہنے والے نفتالی بینیٹ نے کہا۔

اسی طرح نیتن یاہو کی جگہ لینے کے لیے انتخابات میں پش پیش گیڈی آئزن کوٹ نے کہا، "اسرائیل کی حکومت "اسرائیلی جمہوریت کے خلاف ہاتھ اٹھا رہی ہے" اور نیتن یاہو "اسرائیل کو تقسیم کر رہے ہیں۔"

کابینہ کا فیصلہ اسرائیل کے چینل 13 کی ہائی ٹیک کاروباریوں کے ایک گروپ کو فروخت کی ممکنہ منظوری کو متأثر کر سکتا ہے جو ملک کا ایک بڑا تجارتی ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور نیتن یاہو کا ناقد ہے۔

یہ اس بات پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے کہ آیا دائیں بازو کے اور نیتن یاہو کے حامی چینل 14 کی ایک "چھوٹے چینل" کے طور پر درجہ بندی جاری رہے گی۔ اس سے اسے ریگولیٹری فوائد اور رعایتیں ملتی ہیں۔

نئے انتخابات کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی لیکن یہ ستمبر یا اکتوبر میں متوقع ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں