تہران سے روانگی کے بعد علی خامنہ ای کا جسد قم منتقل
سابق رہبر کے جنازے کا ایک مرحلہ 8 جولائی کو جنوبی عراق میں ہوگا، جبکہ 9 جولائی کو مشہد میں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق سابق ایرانی رہبر علی خامنہ ای کا جسد پیر کی شام تہران میں عوامی الوداعی جلوس کے بعد جنوبی شہر قم پہنچ گیا۔
سرکاری ٹی وی نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جسد کو قم منتقل کیے جانے کی تصاویر نشر کیں۔ منگل کو قم میں ان کی آخری رسومات کے ایک مرحلے کی ادائیگی کی جائے گی۔ خامنہ ای 28 فروری کو تہران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔
تہران میں سیاہ لباس پہنے ایرانی پرچم اور سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے سوگواروں کی بڑی تعداد کئی کلومیٹر طویل شاہراہوں اور سڑکوں پر موجود رہی۔ سرکاری ٹی وی نے شرکاء کی تعداد کئی ملین (لاکھوں) بتائی، تاہم حکام نے ہفتے سے جاری جنازے کی تقریبات میں شریک افراد کی کوئی سرکاری تعداد جاری نہیں کی۔
خامنہ ای کے جسد کے ساتھ ان کے خاندان کے چار افراد کے تابوت بھی رکھے گئے، جو 28 فروری کے ابتدائی امریکی۔اسرائیلی حملوں میں ان کے ساتھ ہلاک ہوئے تھے۔ جمعے سے ان کے جسد کو تہران کے مصلیٰ میں رکھا گیا تھا۔
جمعے کو سرکاری وفود نے خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ ہفتے سے عوام کے لیے آخری دیدار کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں بڑی تعداد میں لوگ خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کو الوداع کہنے کے لیے شریک ہوئے۔
پیر کی صبح سویرے جنازے کا جلوس تہران کی سڑکوں سے گزرا، جو دارالحکومت میں جاری آخری روزِ تشییع تھا۔اس کے بعد آخری رسومات ملک کے دیگر علاقوں میں جمعرات تک جاری رہیں گی، جبکہ جمعہ کو سابق رہبر علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد (شمال مشرقی ایران) میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
پیر کے روز جنازے کے شرکاء نے ایرانی پرچم علی خامنہ ای کی تصاویر اور امریکا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے درج بینرز اٹھا رکھے تھے۔ چار تابوت ایک بڑے ٹرک پر رکھے گئے تھے، جن کے درمیان خامنہ ای کا جسد تھا، جس پر ان کی سیاہ عمامہ بھی رکھا گیا تھا۔
تقریباً 20 کلومیٹر طویل جنازے کا جلوس جو پیر کی دوپہر اختتام پذیر ہوا، لگ بھگ دس گھنٹے تک جاری رہا۔ جلوس تہران کی اہم شاہراہوں، جن میں انقلاب اسٹریٹ اور آزادی اسکوائر شامل ہیں،وہاں سے گزرا۔
تشییعی مراسم میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ فوجی حکام سمیت متعدد سرکاری شخصیات نے شرکت کی۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی بھی جنازے کے جلوس میں شرکت کی تصاویر نشر کیں۔
قم میں مزید رسومات کے بعد 8 جولائی کو جنازے کی تقریبات کا ایک مرحلہ جنوبی عراق میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد جسد دوبارہ ایران لایا جائے گا، جہاں 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد (شمال مشرقی ایران) میں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔