اسرائیلی فوج نے شامی اراضی میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے شہریوں کو گرفتار کر لیا

انتہا پسند دائیں بازو کی بستی کاری تحریک "حالوتسے ہاباشان" کے ارکان غیر قانونی طریقے سے شامی سرزمین میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج کے پریس آفس کے مطابق یہ واقعہ جولان کی پہاڑیوں میں جبل الشیخ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں تعینات اسرائیلی فوجیوں نے در اندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور در اندازوں کو گرفتار کر کے اسرائیلی پولیس کے حوالے کر دیا۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ "اسرائیلی فوج اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے، جو حالیہ دنوں میں پیش آنے والے اسی طرح کے متعدد واقعات کے بعد ہوا ہے... اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ ایسے اقدامات ایک مجرمانہ فعل ہیں جو شہریوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔"

انتہا پسند دائیں بازو کی بستی کاری تحریک "حالوتسے ہاباشان" (باشان کے علمبردار) کے ارکان جو شامی سرزمین پر یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے حامی ہیں، باقاعدگی سے غیر قانونی طور پر شامی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

باشان جنوب مشرقی شام کے ایک علاقے کا توراتی نام ہے، جس میں جولان کی پہاڑیاں اور جبل الشیخ (جسے روسی آرتھوڈوکس روایات میں فاسان کہا جاتا ہے) شامل ہیں۔

اس تحریک نے پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے صفحے پر اس واقعہ میں شرکت کی تصدیق کی۔ "حالوتسے ہاباشان" تنظیم کے مطابق اس بار کئی کارکن جبل الشیخ پر چڑھ کر شام میں رات گزارنے میں کامیاب ہو گئے۔

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ "ہماری سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کے باوجود، ہم جنوبی شام میں مستقل اسرائیلی شہری کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کے لیے پُر عزم ہیں تاکہ جو کچھ لبنان میں ہو رہا ہے وہ دوبارہ نہ ہو۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں