اسرائیلی فوج کے ایک ڈرون نے آج جمعے کی صبح جنوبی لبنان میں ایک ٹرک کو نشانہ بنایا اور ایک اور ڈرون نے صوتی بم گرایا، جبکہ لبنانی صدر جوزف عون نے آرمی چیف کے ساتھ تجرباتی علاقوں کے لیے تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے "نیشنل نیوز ایجنسی" کے مطابق ایک اسرائیلی ڈرون نے صبح تقریباً چھ بجے نبطیہ کے علاقے میں شوکین-کفردجال قصبوں کے مضافات میں کچرا خالی کرنے والے ایک پک اپ ٹرک کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ مزید برآں ایک اسرائیلی ڈرون نے صبح سویرے جنوبی لبنان کے قصبے المنصوری کے مضافات میں ایک صوتی بم گرایا۔
ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر جوزف عون نے جمعہ کے روز آرمی چیف جنرل روڈولف ہیکل کے ساتھ ان تیاریوں پر بات چیت کی جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان دستخط شدہ فریم ورک معاہدے میں تجرباتی علاقوں کے حوالے سے درج ہیں۔
صدر جمہوریہ نے آرمی چیف کے ساتھ "مجموعی طور پر ملک اور بالخصوص جنوبی علاقوں کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جس میں جنوبی دیہات اور قصبوں پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے"۔ ملاقات کے دوران "لبنانی سرزمین پر فوج کی جانب سے انجام دی جانے والی ذمہ داریوں، نیز عسکری ادارے کے حالات اور اس کے اہل کاروں کی ضروریات" پر بھی بات ہوئی۔
"نیشنل نیوز ایجنسی" نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے قصبے الخیام کے اندر بڑے پیمانے پر تباہی کے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں رات کے وقت لگاتار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جنہوں نے علاقے کو دہلا دیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کے بعد گذشتہ 2 مارچ سے لبنان پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے کئی قصبوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان 16 اپریل کو پہلی بار جنگ بندی کے اعلان، پھر 23 اپریل کو تین ہفتوں کے لیے اس میں توسیع اور 15 مئی کو دوبارہ 45 دنوں کے لیے توسیع کے بعد بھی اسرائیلی فضائی حملے جنوبی اور مشرقی لبنان کے وسیع علاقوں کو نشانہ بناتے رہے۔
گذشتہ ماہ کی 20 تاریخ کو ایک اور جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جو چند روز قائم رہنے کے بعد اسرائیلی ڈرون حملوں اور جنوبی لبنان پر توپ خانے کی گولہ باری کے دوبارہ آغاز کی وجہ سے ختم ہو گئی۔