مغربی افغانستان میں خواتین کے ضابطۂ لباس پر کریک ڈاؤن، کاروبار کو شدید نقصان

خواتین کو خارج کر کے بنائی گئی پالیسیوں سے معیشت کو سالانہ ایک بلین ڈالر کا نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

دکانداروں، ڈرائیوروں اور رہائشیوں کے مطابق افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں کاروباری اداروں کو خواتین صارفین کے نقصان کا سامنا ہے کیونکہ

اخلاقی پولیس کی طرف سے خواتین کے لباس پر حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد وہ گھر سے باہر نہیں نکل رہیں۔

طالبان حکومت کی اخلاقی پولیس نے جون کے اوائل میں درجنوں خواتین کو اس الزام میں حراست میں لے لیا تھا کہ انہوں نے جسم ڈھانپنے والی چادر یا برقع نہ پہن کر لباس کے سرکاری ضوابط کی خلاف ورزی کی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق پابندیوں کے خلاف ہونے والا ایک غیر معمولی احتجاج پرتشدد طریقے سے منتشر کیا گیا جس میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔

"جب سے یہ واقعات پیش آئے، بازاروں میں کوئی عورتیں نظر نہیں آئیں،" ہرات سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر 26 سالہ رامین غفوری نے اے ایف پی کو بتایا جو درزی کی دکان چلاتے ہیں۔

افغانستان کے مغربی تجارتی مرکز اور اس کے ایک سب سے بڑے شہر ہرات میں عموماً بارونق بازاروں میں خواتین خریداروں کا غلبہ ہوتا ہے۔

جوتوں کی دکان چلانے والے نذیر احمد عظیمی نے کہا، "ہماری نوے فیصد فروخت خواتین کو ہوتی ہے حتیٰ کہ مردوں کے لیے بھی خواتین خریداری کرتی ہیں۔" انہوں نے مشاہدہ کیا کہ مرد اکثر بہت زیادہ مصروفیت کی وجہ سے خریداری نہیں کر پاتے کیونکہ خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع کم ہونے کے بعد اب یہ ملازمتیں مرد کر رہے ہیں۔

انہوں نے اندازہ لگایا کہ خواتین پر پابندیوں کے نفاذ میں حالیہ اضافے نے شہر کے بازاروں میں کاروبار کم کر کے نصف کر دیا ہے۔

ہرات کی شہری انتظامیہ کے ترجمان نے پابندیوں کے خاتمے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

طالبان حکام نے 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے عوامی زندگی تک خواتین کی رسائی پر متعدد قوانین نافذ کیے ہیں جن میں انہیں پرائمری سکول سے آگے تعلیم حاصل کرنے، مخصوص پیشوں میں کام کرنے اور پارکوں میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔

ہرات کی ایک 28 سالہ رہائشی نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے ان سہیلیوں سے ملنے کے لیے جانا چھوڑ دیا ہے جن کے ساتھ وہ ریستورانوں میں کھانا کھانے اور خریداری پر جاتی تھی۔

انہوں نے اپنے آبائی شہر کے حالیہ تجربے کے بارے میں کہا، "مجھے اجنبیت کا احساس ہو رہا ہے۔" کئی اور خواتین نے اسی بات کی تائید کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس کی موجودگی کے خوف سے وہ گھر پر ہی رہتی ہیں۔

پابندیوں نے ہرات کی صورت بدل کر رکھ دی ہے جو کبھی افغانستان کے ثقافتی دارالحکومت کے طور پر معروف تھا اور یہاں طالبان حکومت کی واپسی سے قبل یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد مردوں سے زیادہ تھی۔

طالبان حکام نے معاشی خود کفالت کو فروغ دینے اور غیر ملکی امداد پر انحصار ختم کرنے کا عزم کیا ہے جو کبھی امریکہ کی حمایت یافتہ سابقہ حکومت کی مالیات کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔

لیکن اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب افغانستان کئی عشروں کی جنگ سے باہر نکل کر اپنے نجی شعبے کو ترقی دے گا۔

ملک ایک انسانی بحران کی لپیٹ میں ہے جو غیر ملکی امداد میں کمی اور اس وجہ سے شدت اختیار کر گیا ہے کہ ہمسایہ ممالک ایران اور پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے بعد لاکھوں افغانوں کو رہائش اور ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اقوامِ متحدہ نے طالبان حکام کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اندازہ لگایا تھا کہ خواتین کو خارج کر کے بنائی گئی پالیسیوں سے معیشت کو سالانہ ایک بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا تھا۔

- 'عورتوں کے بغیر بازار ویران' -

ہرات میں خواتین نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ گھر سے باہر نہیں نکلتیں جب تک کہ بالکل ضروری نہ ہو، اس خوف سے کہ انہیں ضابطۂ لباس کی مبینہ خلاف ورزیوں پر طالبان کی وزارت برائے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے افسران روک سکتے ہیں۔

ایک 27 سالہ خاتون نے بتایا کہ وہ ہر روز لینگویج کلاسز میں شرکت کے لیے نجی ٹرانسپورٹ لیتی تھیں لیکن جون سے وہ بمشکل گھر سے نکلی ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "میں خوف اور دہشت کی لپیٹ میں تھی۔ میں نے خوف کے مارے سب کچھ چھوڑ دیا۔"

ان کی یومیہ نقل و حرکت کے اخراجات تقریباً 0.78 ڈالر تھے۔ ایک ایسا ملک جہاں زیادہ تر آبادی غربت کی لکیر کے نیچے رہتی ہے، اس کی مقامی معیشت میں یہ ایک چھوٹا لیکن اہم حصہ تھا۔

ایک 21 سالہ آٹورکشہ ڈرائیور فرشید کریمی نے کہا کہ اس کا منافع روزانہ تقریباً نو ڈالر تک ہو جاتا تھا لیکن گذشتہ چند ہفتوں میں چار ڈالر بھی مل جائیں تو وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔

کریمی نے کہا، "پہلے خواتین آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے کے لیے رکشہ لے سکتی تھیں۔ اب چونکہ پابندیاں لگ گئی ہیں تو وہ باہر نہیں جاتیں اس لیے ہمارے لیے کوئی کام نہیں ہے۔"

ایک 31 سالہ خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ کپڑوں پر بیک وقت 20 ڈالر سے زیادہ خرچ کرتی تھیں لیکن پھر انہوں نے خریداری بند کر دی۔

یہی پیسہ درزی غفوری جیسے لوگوں کے لیے روزگار کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا، "بازار عورت کے گرد گھومتا ہے۔ عورت نہ ہو تو بازار ویران ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں