خطے میں جنگوں کے سلسسلے میں ایک خاص اہمیت کے حامل اسرائیلی عام انتخابات ماہ اکتوبر کی 27 تاریخ کو منعقد کیے جائیں گے۔ اسرائیلی انتخابات کی ایک مہم ملک کے اندر جلسے جلوس اور میڈیا کی سطح پر چلائی جاتی ہے اور ایک انتخابی مہم اسرائیل سے باہر اس کے اڑوس پڑوس میں لڑی جانے والی جنگوں یا جنگی منصوبوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی عام انتخابات کا ایک بڑا میدان فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کار لڑتے ہیں۔ فلسطینیوں کے خلاف جس قدر تشدد تیز رہے گا اسرائیلی حکمران جماعت اپنے آپ کو انتخابی کامیابی کی منزل کے اتنا ہی قریب سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنی سیاسی اور انتخابی ہتھکنڈوں اور کامیابیوں کے لیے اپنی انہی جنگوں کے بیچوں بیچ راہ نکالی ہے۔
اب یہی کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے لیے ڈالے جانے والے ووٹ نیتن یاہو کی بیرونی جنگوں سے لتھڑی سیاست و حکومت کے لیے ریفرنڈم کا درجہ رکھتے ہیں۔
اسرائیلی پارلیمنٹ جسے اسرائیل میں عرف عام کنیسٹ کہا جاتا ہے اس کی موجودہ مدت 17 جولائی کو اختتام پذیر ہوگی۔ اس چار سالہ مدت کے دوران نیتن یاہو نے اپنی جنگی حکمت عملی کے تحت اپنی مدت جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس کا ایک سبب ان کا انتہائی پر تشدد خیالات کے اتحادیوں کا ساتھ ہونا بھی رہا۔ تاہم کئی دہائیوں میں یہ پہلی بار ہوا کہ کسی حکومت نے اپنی مدتمکمل کی ہے۔
اس مدت پوری ہونے کا فائدہ سب سے زیادہ نیتن یاہو کو یہ بھی ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف کرپشن کیسز کے فیصلوں کرنے میں بھی اعلیٰ عدالتوں ابھی تک کامیاب نہیں ہونے دیا ہے۔ اب انہی کامیابیوں کے تناظر 27 جولائی کےنئے انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔
کنیسٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کیونکہ اب نئے انتخابات کے لیے موجودہ کنیسٹ کو ختم نہیں کیا جا رہا ہے، کیونکہ کنیسٹ قدرتی طور پر ہی اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے۔
واضح رہے 76 سالہ نیتن یاہو جو اب تک چھ بار اسرائیلی وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ ایک بار پھر وزیر اعظم منتخب ہونے کی دوڑ میں ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا وہ الیکشن میں مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاکہ الیکشن جیت سکیں۔ اس وقت اسرائیل میں جو منظر موجود ہے اس میں ہونے والے عام انتخابات نیتن یاہو کی سیاسی زندگی کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل بلکہ فیصلہ کن ہوں گے۔
نئے انتخابات سے پہلے انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں نے اپنے من پسند قوانین کی منظوری کے لیے بہت تیزی دکھائی ہے تاکہ کنیسٹ کی مدت ختم ہونے سے پہلے پہلے اپنے کام سیدھے کرلیں۔
ابھی پچھلے ماہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ اب ایک وسیع البنیاد قومی حکومت تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بجائے اس کے وہ دائیں بازو یا بائیں بازو کی یا عرب جماعتوں کو اکیلے ساتھ ملا کر حکومت بنائیں۔ نیتن یاہو نے اپنی سیاسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اور درپیش چیلنجوں کے باعث یہی حکمت عملی اپنے لیے بہتر جانی ہے۔ کہ سب کو اتحادی بنانے کی باتیں کر کے اپنی مخالفت کو ٹھنڈا کریں۔ جیسا کہ انتخابی سرویز ظاہر کرتے ہیں کہ عوام اب نیتن یاہو کو حکومت سے باہر دھکیلنا چاہتے ہیں۔
اہم ایشوز
ہیبرو یونیورسٹی یروشلم نے ایک کرائے گئے سروے میں کہا ہے کہ 92 فیصد سے زائد اسرائیلی عوام سمجھتے ہیں کہ ایران نے مشرق وسطیٰ کی جنگ جیت لی ہے۔ اس وجہ سے نیتن یاہو کی وزارت عظمیٰ کے لیے کی گئی عوامی حمایت میں کمی ہوگئی ہے۔ پہلے 5.40 فیصد اسرائیل ان کے حق میں رائے دیتے تھے مگراب یہ تعداد 4.29 فیصد رہ گئی ہے۔ یہ سروے ماہ جون میں سامنے آیا ہے۔ یہ اسرائیلی شہری ایران کے ساتھ کی گئی جنگ بندی کی بھی حمایت نہیں کرتے کہ اس سے ایران کی کامیابی کا تاثر پختہ ہو گیا ہے۔
عوام 7 / اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں کے خلاف بھی اب تک اپنی ناراضگی کو ختم نہیں کر سکے۔ یہ عوامی غصہ بھی نیتن یاہو کے خلاف جاتا ہے۔ اسی طرح انتہا پسند مذہبی عناصر کے لیے لازمی جنگی خدمات کے قانون کے تنازعے کی وجہ سے پیدا شدہ تلخی بھی ابھی باقی ہے۔
نیتن یاہو کے اہم ترین اتحادی بھی یہ دھمکیاں دیتے رہے ہیں کہ وہ حکومت کو گرا دیں گے اگر ان کے حلقہ ہائے اتخاب کو اس لازمی فوجی خدمات والے قانون سے استثنا نہ دیا گیا۔ جبکہ اسرائیلی فوج، اسٹیبلشمنٹ اور عوام کا ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ فوج میں لازمی خدمات کا قانون یکساں اور سب کے لیے ہونا چاہیے۔
علاوہ ازیں عدالتی اصلاحات کا تنازعہ بھی اسرائیل میں اہم سیاسی و انتخابی موضوع ہے۔ خود نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کیسز کا ابھی تک فیصلہ ہو سکنا اور غزہ میں مسلسل بے یقینی جیسی صورت حال نیتن یاہو کے خلاف جانے والی چیزیں ہیں۔ ایران کے علاوہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بھی اسرائیلیوں کا ایک مخمصہ سا بن گئی ہے۔ اس کا خمیازہ بھی نیتن یاہو کے لیے ہوگا۔
نیتن یاہو کہتے ہیں کہ ایران سے اپنے وجود کو لاحق خطروں سے نمٹ لینے کا موقع دے دیں۔ اس کے بعد ایک وسیع تر قومی حکومت قائم کر دی جائے گی، جو امن لا سکے گی۔ ایرانی پراکسیز کے ساتھ ڈیل کرکے ہماری ایران و لبنان میں فتوحات کے ثمرات کو سامنے لائے گی۔