اسرائیل میں پارلیمانی الیکشن، لیکوڈ پارٹی میں اختلاف نیتن یاہو کے حساب کو پیچیدہ کر رہا
پارٹی میں مخصوص نشستوں کے باعث بحران، نیتن یاہو ان سیٹوں کی تعداد بڑھا کر 11 کرنا چاہتے
اسرائیل 27 اکتوبر کو کنیسٹ (پارلیمنٹ) کے انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں کر رہا ہے۔ یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کے حملے اور اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلے قانون ساز انتخابات ہوں گے۔ یہ سب ایک ایسے سیاسی منظر نامے کے درمیان ہو رہا ہے جسے برسوں میں سب سے زیادہ پیچیدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک سے زیادہ محاذوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کا آغاز جنگ کے انتظام سے ہوتا ہے، عدالتی ادارے کے ساتھ بحران سے گزرتا ہے اور حکمران اتحاد کی قیادت کرنے والی لیکوڈ پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات تک جاتا ہے۔ رائے عامہ کے جائزے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں زیادہ شدید مقابلے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
علیحدہ ہونے کی دھمکی
اسرائیلی چینل 14 کی رپورٹ کے مطابق یہ منظر نامہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب نیتن یاہو نے لیکوڈ کے رہنماؤں کے ساتھ ایک بند کمرہ اجلاس کے دوران کہا کہ اگر پارٹی کے امیدواروں کے انتخاب کے طریقہ کار سے متعلق اختلافات حل نہ ہوئے تو وہ آزاد فہرست کے ساتھ انتخابات لڑ سکتے ہیں۔
یہ اشارہ انتخابی فہرست کی شکل کے بارے میں جاری اندرونی شدید مذاکرات کے درمیان سامنے آیا۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جسے مبصرین نے انتخابی معرکہ شروع ہونے سے پہلے پارٹی کے اندر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے ایک دباؤ کے پتے کے طور پر تعبیر کیا ہے۔
لیکوڈ کے اختلافات
یہ بحران نام نہاد مخصوص نشستوں کے گرد گھومتا ہے جو لیکوڈ کی انتخابی فہرست میں ایسے عہدے ہیں جن پر فائز ہونے والے افراد کا انتخاب پارٹی کا سربراہ براہ راست پرائمری انتخابات سے ہٹ کر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ نیتن یاہو فہرست کے پہلے 40 مقامات میں ان نشستوں کی تعداد بڑھا کر 11 کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اس کی وجہ نئی شخصیات کو راغب کرنے اور انتخابی طور پر پارٹی کے مواقع کو مضبوط کرنے کی ضرورت بتاتے ہیں۔
تاہم اس تجویز کو پارٹی کے اندر نمایاں رہنماؤں کی طرف سے مسترد کر دیا گیا۔ مسترد کرنے والوں میں لیکوڈ سینٹر کے سربراہ حاییم کاٹز اور رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ بٹان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ پارٹی سربراہ کے اختیارات کو وسعت دینے سے اندرونی اداروں کا اثر و رسوخ کم ہو جائے گا اور پرائمری انتخابات کے اس طریقہ کار کو کمزور کر دیا جائے گا جس پر لیکوڈ برسوں سے انحصار کر رہی ہے۔
اخبار ’’ ٹائمز آف اسرائیل‘‘ کے مطابق اس اختلاف نے پارٹی کو پرائمری انتخابات ملتوی کرنے پر بھی مجبور کردیا ہے تاکہ سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔
نئے حریف
نیتن یاہو کے چیلنجز صرف ان کی پارٹی کے اندرونی اختلافات تک محدود نہیں ہیں ۔ اسرائیل کے سابق چیف آف سٹاف گاڈی آئزنکوٹ آنے والے انتخابات میں ایک نمایاں ترین حریف کے طور پر ابھرے ہیں جنہوں نے ایک فوجی قائد کے طور پر اپنے امیج اور جنگ کے انتظام پر اپنی مستقل تنقید کا فائدہ اٹھایا ہے۔ مغربی رپورٹس اور رائے عامہ کے جائزے اشارہ کرتے ہیں کہ آئزنکوٹ کی اعتدال پسند پارٹی منظر نامے کی صدارت کے لیے لیکوڈ کا مقابلہ کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں کنیسٹ کے اندر اپنی عددی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں تو ان کے پاس حکومتی اتحاد بنانے کے مواقع لیکوڈ کے مواقع سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ اور سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ ایک ایسا متبادل تشکیل دینے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جو اقتدار پر نیتن یاہو کے تسلط کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
فیصلہ کن معاملات
توقع ہے کہ امیدواروں کی انتخابی مہم غزہ میں جنگ، اسرائیلی یرغمالیوں کے مستقبل، سپریم کورٹ کے ساتھ بحران، اور قدامت پسند حریدی یہودیوں کی جبری بھرتی کے قانون کے معاملات پر مرکوز ہوگی۔ اس کے علاوہ اقتصادی حالات کے اثرات اور جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات بھی انتخابی مہم میں شامل ہوں گے۔
عدالتی ادارے کے ساتھ اختلاف بھی اس وقت دوبارہ سامنے آ چکا ہے جب حکومت نے میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی سے متعلق سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی تعمیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے اسرائیل کے ایک غیر معمولی آئینی بحران میں داخل ہونے کے بارے میں انتباہات پیدا کردیے اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے نیتن یاہو کی حکومت پر اپنے حملوں کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیا۔
بقا کا امتحان
اکتوبر کے انتخابات صرف اسرائیل کے اندر نئی حکومت کی تشکیل کا مقابلہ نہیں ہیں بلکہ یہ نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا ایک فیصلہ کن امتحان مانے جاتے ہیں۔ یاد رہے وہ تقریباً دو دہائیاں وقفے وقفے سے حکومت کی صدارت میں گزار چکے ہیں۔ ان کے طویل تجربے اور گزشتہ سیاسی بحرانوں سے نکلنے کی صلاحیت کے باوجود لیکوڈ کے اندرونی اختلافات، مضبوط سکیورٹی پس منظر رکھنے والے حریفوں کا ابھرنا اور کئی رائے عامہ کے جائزوں میں حکمران اتحاد کی مقبولیت میں کمی آنے والے انتخابات کو ان سب سے مشکل سیاسی معرکوں میں سے ایک بناتی ہے جو نیتن یاہو نے 2022 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے لڑے ہیں۔