خامنہ ای کے جنازے میں نقاب پوش شخص کا تنازع ختم، شناخت ہوگئی

وہ علی خامنہ ای کا سب سے بڑا پوتا جواد خامنہ ای ہے، جھلسنے کی وجہ سے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا: میڈیا رپورٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریب کے دوران اگلی صفوں میں ایک سیاہ نقاب اور ٹوپی پہنے ہوئے شخص کے نمودار ہونے نے قیاس آرائیوں کا ایک وسیع طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ مرحوم سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں۔

تاہم ایرانی میڈیا رپورٹس نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جنازے میں نظر آنے والا شخص علی خامنہ ای کا سب سے بڑا پوتا اور مصطفیٰ خامنہ ای کا بیٹا محمد جواد خامنہ ای ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے نواسوں میں سب سے بڑا ہے۔

رپورٹس کے مطابق محمد جواد نے 28 فروری کے حملے کے دوران ایرانی سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کے اندر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں آنے والے زخموں اور جھلسنے کی وجہ سے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔ اس حملے میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کئی ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔

محمد جواد گزشتہ 28 فروری کو ایران کو نشانہ بنانے والی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران آنے والے شدید زخموں اور جھلسنے کی وجہ سے اپنا چہرہ ڈھانپنے پر مجبور ہوئے۔ یہ وہی حملے تھے جن کے نتیجے میں علی خامنہ ای بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

علی خامنہ ای کے تین بیٹے مصطفیٰ، مسعود اور میثم جنازے کی تقریب کے دوران اپنے والد کے تابوت کے پاس نظر آئے تھے۔ مجتبی جو سپریم لیڈر کے عہدے پر ان کے جانشین بنے ہیں عوامی منظرنامے سے غائب رہے تھے۔

یاد رہے مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کے حملے کے بعد سے عوامی طور پر نظر نہیں آئے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہ اسی حملے کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے اور ان کا چہرہ مسخ ہو گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں