ایرانی طیارہ اترنے سے روکنے کے لیے یمنی افواج کی صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بم باری
ایئرپورٹ کے قریب دھماکے ہوئے ہیں جب کہ وزارت دفاع نے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے اور یمنی فضائی حدود میں گھسنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف انتباہ جاری کیا ہے
یمن میں پیر کے روز صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف میں غیر معمولی کشیدگی دیکھی گئی، جب یمنی مسلح افواج نے ایک ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنے کے لیے ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے ساتھ ہی ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کے مطابق عینی شاہدین نے ایئرپورٹ کے قریب بم باری اور دھماکوں کی تصدیق کی ہے، تاہم مادی یا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی آزادانہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
یمنی مسلح افواج نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ انہوں نے ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنے کے لیے رن وے کو نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے یمن کی سرزمین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے رد عمل میں کی گئی ہے۔ مسلح افواج نے مزید کہا کہ "ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا" نے یمنی قومی پروازوں کو صنعاء ایئرپورٹ پر اترنے سے روکا اور ایرانی طیارے کو یمن کی سرزمین میں داخل کرنے پر اصرار کیا، جس کے بعد ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے اس صورتحال میں ایئرپورٹ کا استعمال یمنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اس کارروائی کے ساتھ ہی یمنی وزارت دفاع نے ایک ہنگامی بیان جاری کیا جس میں شہریوں، کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایئرپورٹ اور اس کے گردونواح سے فوری انخلاء کی ہدایت کی گئی۔ وزارت نے شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ احتیاطی اقدامات سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کیے گئے ہیں۔
وزارت دفاع نے خبردار کیا کہ مسلح افواج یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی طیارے یا فریق کے خلاف سخت کارروائی کریں گی۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ فوج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ قومی خو دمختاری اور ملکی سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت یمن کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر العقیلی کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ حکومت نے ایران اور حوثیوں کو فضائی حدود کے غلط استعمال سے باز رکھنے کے تمام سیاسی ذرائع آزما لیے ہیں، لیکن اب "صبر کا پیمانہ لبریز" ہو چکا ہے۔
یہ کشیدگی یمن میں ایرانی مندوب علی محمد رضائی کے دوبارہ منظرِ عام پر آنے اور تہران سے آنے والی "ماہان ایئر" کی پرواز کے بعد پیدا ہوئی ہے، جسے یمنی حکومت نے خو دمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یمن میں ایران کا کردار اب سفارتی دائرہ کار سے نکل کر سکیورٹی اور عسکری جہتوں میں داخل ہو چکا ہے۔
-
شام: طویل عرصے کے بعد نومنتخب پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کا انعقاد
شام کی نئی حکومت کے بعد بننے والی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس اتوار کے روز دمشق میں ...
مشرق وسطی -
صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے... یمنی وزیر دفاع نے ایران اور حوثیوں کو واضح کر دیا
یمن کے وزیر دفاع لیفٹننٹ جنرل طاہر العقیلی نے یمنی مسلح افواج کی جانب سے ایک ٹیلی ...
مشرق وسطی -
حوثیوں کی سفاکیت، ریڈ کراس کا طیارہ اور عملہ صنعاء میں یرغمال بنالیا: یمنی وزیر اطلاعات
یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف ایک انتہائی ...
مشرق وسطی