آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز ایرانی حملے کا نشانہ بنے:اماراتی وزارتِ دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے پیر کی شام اعلان کیا کہ قومی آئل ٹینکر ''ممباسا'' اور ''الباہیہ'' کو سلطنتِ عمان کی علاقائی سمندری حدود میں آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے پر ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

اماراتی خبر رساں ایجنسی'' وام'' کے مطابق اس حملے میں ''ممباسا'' کے عملے کا ایک بھارتی شہری ہلاک جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے، جن میں 6 بھارتی اور 2 یوکرینی شہری شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔حملے کے نتیجے میں دونوں آئل ٹینکروں میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے انہیں مادی نقصان پہنچا، تاہم بعد ازاں دونوں جہازوں میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا۔

سنگین خلاف ورزی

اماراتی وزارتِ دفاع نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت، سنگین خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کی صریح پامالی قرار دیا، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے اور اپنی سرزمین، عوام اور ملک میں مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاست اپنی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنے قومی مفادات اور وسائل کے دفاع کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔

وزارتِ دفاع نے یہ بھی واضح کیا کہ امارات ہر قسم کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہے اور ملک کی سلامتی و استحکام کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کا پوری قوت اور سختی سے مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے

دوسری جانب بحرین کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجانے کا اعلان کیا۔

وزارت نے شہریوں اور ملک میں مقیم افراد سے اپیل کی کہ وہ پرسکون رہیں اور فوری طور پر اپنے قریبترین محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔

ایران پر امریکی حملوں کا نیا سلسلہ، مسلسل تیسری رات کارروائیاں

دوسری جانب امریکی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل تیسری رات بھی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ایرانی افواج کو بھاری نقصان پہنچاتے رہیں گے اور بے گناہ شہریوں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کریں گے۔بیان کے مطابق یہ فوجی کارروائیاں مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 45 منٹ پر شروع کی گئیں۔

معاہدہ ممکن ہے

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے تک پہنچنا اب بھی ''ممکن'' ہے، اگرچہ امریکا نے ایران پر نئے حملے کیے ہیں اور ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری محاصرہ بھی نافذ کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہاں، میرا خیال ہے کہ معاہدہ ممکن ہے، مجھے اس پر پورا یقین ہے۔

انہوں نے مزید کہا:ہم نے دو روز قبل ان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کر لیا تھا، پھر انہوں نے کہا کہ ہم یہ معاہدہ نہیں کر سکتے، اس پر مزید مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے۔

امریکی صدر اس سے قبل پیر کے روز اعلان کر چکے تھے کہ امریکا ایران پر دوبارہ بحری محاصرہ نافذ کرے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جائے گا، تاہم وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب گزشتہ چند دنوں کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان میزائلوں اور ڈرون حملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے دوران ایران نے خلیجی خطے کے مختلف ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ادھر ایران نے اتوار کی صبح آبنائے ہرمز بند کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان پیش رفتوں نے گزشتہ ماہ ہونے والے اس عارضی معاہدے کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، جنگ روکنے اور دونوں فریقوں کے درمیان 60 روزہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں