اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے منگل کے روز ایران کو یہ پر زور دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملے کیے تو اس پر اسرلئیل کی طرف سے پوری طاقت سے فیصلہ کن وار کیا جائے گا۔
انہوں نے اسرائیلی شہر دیمونا میں ایک کانفرنس کے دوران ایرانی قائدین کو سخت انتباہ کرتے ہوئے کہا یہ نہ خیال کرنا کہ اگر ہمارے اوپر حملہ کیا گیا تو ہماری چیزیں خاموش رہیں گی۔ انہوں نے کہا میں اس وقت اسرائیل کے جس جنوبی قصبے دیمونا میں ہوں اسے سرکاری طور پر تو جوہری تحقیق کے لیے قرار دیا جاتا ہے مگرعام طور پر یہ یقین ہے کہ اس یہ اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کو کا گھر ہے۔
نیتن یاہو نے کہا اب وہ دن گذر گئے ہیں جب کوئی ہم پر حملہ آور ہوا اور ہم نے اس پر فیصلہ کن جوابی حملہ نہ کیا۔ جب ہم نے امریکہ کے ساتھ مل کر اس سال کے شروع میں حملے کیے تھے۔ اس کے مقابلے میں اب موقع آیا تو ہمارا حملہ ان حملوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہوگا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے ان کے جاری کردہ بیان میں چھلے عرصے میں ہونے والے حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا اب ہماری طرف سے اسی طرح کے اور اسی نوعیت کے حملے کیے جانے کی توقع نہ کرنا ، اب ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور حملے کیے جائیں گے۔
نیتن یاہو کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکہ کی جانب سے ایک بار پھر ایران پر حملے کیے گئے ہیں اور صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی بندرگاہوں کی فوجی ناکہ بندی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے ساحلی شہر 'بوشہر' پر بھی حملے کیے گئے ہیں جسے ایران کی سول جوہری توانائی کی تنصیبات کے لیے اہم مانا جاتا ہے۔ ایران نے بھی امریکی حملوں کے بعد خطے کے کئی ملکوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔