ایران نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو نقصان پہنچایا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ کسی نہ کسی حد تک پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو کمزور کر چکا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں غریب آبادی نے کہا:اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے خلاف فوجی کارروائیوں، دباؤ اور معاشی ناکہ بندی میں اضافہ ہمیں دوبارہ مذاکرات کی میز پر لے آئے گا تو وہ غلط فہمی میں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا، جب امریکا نے منگل کو ایران پر نئے حملے کیے، جو ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے کیے گئے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل میں جنگ بندی کے بعد یہ سب سے بڑا فوجی لڑائی ہے، جو 17 جون کو دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کو مستحکم کرنے کی سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ اور سرکاری معلومات کی بنیاد پر بدھ سے دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 28 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔
بعد ازاں اپریل میں فریقین جنگ بندی پر متفق ہو گئے تھے، جس کے بعد لڑائی بڑی حد تک رک گئی، اگرچہ وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔
حالیہ دنوں میں ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے کے مختلف ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے۔
ادھر تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے صدر ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا۔
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے مطابق اپریل میں لگائی گئی گزشتہ بحری ناکہ بندی کے دوران، جب ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تھی، ایران ایک بھی بیرل تیل برآمد نہیں کر سکا تھا۔