عراق میں حزب اللہ کی مالی معاونت سے وابستہ شخصیات اور اداروں پر پابندیاں
دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق امریکی ترمیمی ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت اقدام
عراق کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے فیصلوں کی بنیاد پر لبنانی حزب اللہ سے وابستہ مالیاتی نیٹ ورکس، افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے نئی بینکنگ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں لبنانی حزب اللہ سے تعلق کی بنا پر لبنانی سیاست دان سلیمان فرنجیہ اور لبنانی حزب اللہ کے رہنما محمود قماطی شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق یہ اقدام گزشتہ 30 جون کو وزارتِ خارجہ یا امریکہ ڈیسک اور جولائی کے اوائل میں وزیر خزانہ کے دفتر سے جاری ہونے والے دو سرکاری خطوط کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور مغربی افریقہ میں تین افراد اور چھ اداروں پر داعش تنظیم کے حق میں مالیاتی منتقلیوں کی سہولت کاری کرنے پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان فیصلوں میں دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق امریکی ترمیمی ایگزیکٹو آرڈر نمبر 13224 کے تحت لبنانی "حزب اللہ" سے وابستہ متعدد اداروں کو شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد ان مالیاتی اور لاجسٹک سپورٹ نیٹ ورکس کا پیچھا کرنا اور انہیں نشانہ بنانا ہے جن پر یہ جماعت انحصار کرتی ہے۔
عراقی فنڈ برائے بیرونی ترقی کے سربراہ ظافر مہدی عبداللہ اور قائم مقام ڈائریکٹر جنرل برائے اقتصادی امور نادیہ رشید علی کے دستخطوں سے جاری ہونے والے اس بیان کے مطابق اس فیصلے کو وزارتِ خزانہ سے وابستہ محکموں، بینکوں، اداروں اور کمپنیوں کو مطلع کرنے اور ضروری کارروائی کرنے کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔