اربیل ایئرپورٹ اور امریکی قونصلیٹ کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش ناکام دی:عراقی حکام
حملے میں استعمال ہونے والے دو ڈرون طیارے مار گرائے گئے
عراقی سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اربیل ایئرپورٹ اور امریکی قونصلیٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے دو ڈرون طیاروں کو مار گرایا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے نامہ نگاروں نے بتایا کہ عراق کے شمالی شہر اربیل میں واقع امریکی قونصلیٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق قونصلیٹ کے اطراف میں فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا گیا، اس قونصلیٹ کو 28 فروری کو ایران پر شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد سے متعدد بار میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
اربیل کے اوپر ڈرون طیاروں کو پرواز کرتے دیکھا گیا جنہیں بعد ازاں فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا، اس دوران دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور علاقے میں دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
ان حملوں کی فوری طور پر کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عراق کے نئے وزیراعظم علی الزیدی واشنگٹن کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔
عراقی کردستان کا علاقہ جہاں امریکی افواج موجود ہیں، امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جنگ کے آغاز سے ہی حملوں کی زد میں ہے۔ ان حملوں میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری ایران نواز عراقی مسلح گروہوں پر عائد ہوتی رہی ہے۔
ان مسلح گروہوں نے اب تک عراق میں امریکی تنصیبات کو 600 سے زائد بار نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے بھی اس خطے میں مقیم ایرانی کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر ضربیں لگائی ہیں، یہ کارروائیاں کھلی جنگ کے دوران اور اپریل میں ایک کمزور جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی جاری رہیں۔