اردن کا ایران کے آٹھ میزائل مار گرانے کا دعویٰ
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا دائرہ کار وسیع ہونے کا خدشہ
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران اردن کی فوج نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے آٹھ میزائلوں کو فضا میں ہی مار گرایا ہے جو مبینہ طور پر مملکت کی سرزمین کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے تھے۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں جاری تصادم کے دائرہ کار کے وسیع ہونے کی ایک تازہ مثال ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اردن کی فوج نے سرکاری خبر رساں ادارے ’بترا‘ کے ذریعے اس کارروائی کی تصدیق کی۔ فوج نے بتایا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ان میزائلوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا جو مملکت کی جانب داغے گئے تھے۔ البتہ تباہ شدہ میزائلوں کے ملبے کے گرنے کے مقامات یا کسی ممکنہ نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اردن کا یہ اعلان خطے میں جاری عسکری کشیدگی کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے اندر اپنے فضائی حملوں میں تیزی لاتے ہوئے شمالی علاقوں میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک جہاز کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق تہران نے جمعرات کی صبح سویرے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن، بحرین اور کویت سمیت خطے کے متعدد ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون طیارے داغے ہیں۔ دونوں فریقین کے درمیان یہ تبادلہ آتش مسلسل جاری ہے۔
کشیدگی میں مسلسل اضافہ
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تنازعے کے پھیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والے جوابی حملوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کو کنٹرول کرنے کے لیے کی گئی عارضی مفاہمتوں کو ختم کر دیا ہے اور خطے کے ایک وسیع تر جنگ کی لپیٹ میں آنے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کے بارے میں بھی تشویش برقرار ہے کیونکہ عالمی تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے اور اس اہم گزرگاہ سے وابستہ خطرات مسلسل موجود ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک امریکی حملوں میں 35 سے زائد افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
میدانی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور کشیدگی میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ خطے کے ممالک کسی بھی نئے حملے کے پیش نظر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کر رہے ہیں جبکہ بحران کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاہم ابھی تک کسی بڑی کامیابی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔