برسوں کی سرد مہری کے بعد قاھرہ اور دمشق میں سفارتی چینلز کا آغاز

دیاب، العنزی اور وفاء بیطار شام کی نمائندگی کے لیے مصر پہنچ گئے: ذرائع العربیہ ڈاٹ نیٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات شام کا ایک سفارتی وفد مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے۔ خطے کے حالات کی وجہ سے برسوں کی سرد مہری کے بعد یہ وفد سیاسی طور پر دمشق کی نمائندگی کرتے ہوئے قاھرہ پہنچا۔

پیچیدگیوں کو ختم کرنے کے لیے پہلا دورہ

مبصرین کا خیال ہے کہ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کا قاہرہ کا دورہ اور ان کے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے 3 مئی کو ملاقات اعلیٰ شامی عہدیدار کا پہلا دورہ تھا۔ اس ملاقات نے کئی الجھے ہوئے معاملات کو حل کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان منظر نامے کی پیچیدگیوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

معیشت سیاست کے ساتھ

اسی دن مصری اور شامی حکام کے مابین ملاقات کے بعد شامی وزیر برائے معیشت اور صنعت نضال الشعار، جو اس دورے میں اپنے ملک کے وزیر خارجہ کے ہمراہ تھے، نے ایک شامی- مصری بزنس کونسل کی تشکیل کا انکشاف کیا تھا۔ یہ کونسل دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مربوط کرے گی تاکہ وہ مخصوص سیاسی مفاہمت کے متوازی اور معاون ثابت ہو سکے۔

پانی کا اپنے بہاؤ پر واپس آنا

شام کی وزارت خارجہ کی جانب سے تشکیل دیے گئے سیاسی وفد کی آمد دمشق اور قاہرہ کے درمیان تعلقات کی بحالی کی ضمانت دیتی ہے۔ بشار الاسد کے دور حکومت کے بعد دونوں دارالحکومتوں کے مابین تعلقات میں ایک طرح کی سرد مہری آ گئی تھی جو علاقائی سطح پر توازن اور ہر ملک سے متعلقہ مخصوص حساب کتاب کے تابع تھے۔

وفد سفارت خانہ نہیں

شامی ذرائع نے گزشتہ ماہ کے آخر میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو کہا تھا کہ شامی سفارت کاری کے سربراہ نے یحییٰ دیاب کو مصر میں شامی وفد کا سربراہ منتخب کیا ہے۔ ذرائع نے اس بات کی بھی نشاندہی کی تھی کہ جج جمعہ الدبیس العنزی شامی وفد میں دوسرے اہم ترین شخص ہوں گے۔

دیاب کون ہیں؟

یحییٰ دیاب، جنہیں قاہرہ نے اپنے ہاں اپنے ملک کا نمائندہ تسلیم کیا ہے، دمشق یونیورسٹی سے قانون میں بیچلر کی ڈگری رکھتے ہیں۔ وہ شامی ریاستی اداروں کے ملازمین کے نیشنل لبرل فورم میں ایگزیکٹو آفس اور خارجہ تعلقات اور سفارت کاروں کے دفتر کے رکن ہیں۔ وہ شامی انقلاب سے قبل روم، ابوظبی، کویت اور بیلگریڈ جیسے سفارتی مشنوں میں کام کر چکے ہیں اور بیلگریڈ میں کام کے دوران انہوں نے بشار الاسد حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

مختلف عہدوں پر رہنے والی العنزی

العنزی عین عیسیٰ کے مغرب میں واقع گاؤں "الواسطہ" کے رہنے والے ہیں۔ وہ مصر میں شامی قونصل اور وفد کے نائب سربراہ کا عہدہ سنبھالیں گے۔ اس سے قبل وہ شمالی شام کے قبائلی علاقے الرقہ صوبے میں پبلک پراسیکیوشن کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ حال ہی میں شامی صدر احمد الشرع کے حکم پر وہ بشار حکومت کے خاتمے کے بعد شامی ساحلی علاقوں کے واقعات کی تحقیقات اور حقائق تلاش کرنے والی آزاد قومی کمیٹی کے رکن مقرر ہوئے۔ اس طرح وہ قبائلی اقدار اور سفارت کاری کے تصورات کو یکجا کرتے ہیں۔ ان کی ان صلاحیتوں کے باعث ہی انہیں بیرون ملک اپنے ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

بذریعہ "العربیہ" پہلی عدالتی علیحدگی

2011 میں شامی انقلاب کے آغاز کے بعد حلب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے العنزی کئی ممالک سے ہوتے ہوئے شام سے نکلے اور سعودی عرب پہنچے۔ انہوں نے ریاض سے 11 اگست 2012 کو "العربیہ" چینل پر لائیو آ کر بشار الاسد حکومت کے عدالتی نظام سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام نے اس وقت بشار حکومت کے عدالتی نظام کو حیران کر دیا تھا کیونکہ العنزی عدالتی لحاظ سے بشار کی اطاعت سے باہر نکلنے والے پہلے شخص تھے۔

وفد میں خاتون بھی شامل

قاہرہ پہنچنے والے شامی وفد میں محترمہ وفاء بیطار کا نام بھی نمایاں ہے جنہیں انتظامی اور مالی امور کی ذمہ دار کے طور پر کام کرنا ہے۔ وہ ایک انجینئر ہیں جو اس سے قبل لاطینی امریکہ میں شامی سفارتی کارپوریشن میں کام کر چکی ہیں۔

غیر سرکاری استقبال

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ذرائع نے کہا ہے کہ مصرکی جانب سے قاہرہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شامی وفد کا کوئی باضابطہ استقبال نہیں کیا گیا اور یہ استقبال صرف ان شامی سفارت کاروں تک محدود رہا جو بنیادی طور پر بشار الاسد کے دور حکومت سے مصر میں موجود ہیں۔ انہی ذرائع نے بتایا کہ وفد کے اہل خانہ نے مصر میں داخلے کے لیے ویزے حاصل کر لیے ہیں اور ان کی چند دنوں میں آمد متوقع ہے۔

مصری تحفظات کے بعد بریک تھرو

شامی سفارتی وفد کی مصر آمد ایک سفارتی پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب قاہرہ نے کئی شامی ناموں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ جن ناموں پر اعتراض کیا گیا تھا ان میں محمد طہ الاحمد شامل ہیں جو شامی وزارت خارجہ اور تارکین وطن میں عرب امور کے محکمے کے سربراہ ہیں۔ مصر نے ان کی مخالفت کا کھلم کھلا اظہار نہیں کیا تھا لیکن ایسے پیغامات بھیجے تھے جنہیں شامی فریق سمجھ گیا تھا چنانچہ دمشق نے ایسے نام بھیجے جنہیں مصری سفارت کاری نے بالاخر قبول کر لیا۔

وفد کے سربراہ اور سفیر میں فرق

سفارتی اصطلاحات میں عہدوں کے فرق کے بارے میں تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سفارت خانے یا وفد کے کام کرنے کے طریقہ کار میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ وفد کا سربراہ ناظم الامور (قائم مقام) ہو سکتا ہے یا کسی بین الاقوامی تنظیم میں مستقل نمائندہ ہو سکتا ہے۔ جہاں تک سفیر کا تعلق ہے وہ باضابطہ طور پر سربراہ مملکت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسے سرکاری طور پر تعینات کیا جاتا ہے اور یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ میزبان ملک کے سربراہ کو اپنی اسناد پیش کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں