کویت، بحرین اور اردن کو ہفتے کی صبح ایک بار پھر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد حکام نے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا اور خطرے کے سائرن بجائے گئے۔حکام نے کویت کی فضائی حدود بند کر دیں جبکہ زیادہ تر پروازوں کو دوبارہ شیڈول کیا گیا۔
کویتی فوج کے جنرل اسٹاف نے اعلان کیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز حملوں کا مقابلہ کیا۔
فوج کے مطابق ملک میں سنے جانے والے دھماکوں کی آوازیں فضائی اہداف کو روکنے اور تباہ کرنے کی کارروائیوں کے باعث تھیں۔
کویتی فوج نے کہا کہ یہ حملے ایرانی جارحیت کے بعد کیے گئے، جبکہ شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔
فضائی حدود کی بندش
سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کویتی فضائی حدود بند کیے جانے کے بعد کویت ایئرویز نے اپنی زیادہ تر پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان کیا۔
یہ اقدام فضائی سفر کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی طور پر کیا گیا، جبکہ ملک میں فضائی دفاعی نظام میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں میں مصروف رہا۔
بعد ازاں کویت کی وزارت بجلی، پانی اور قابل تجدید توانائی نے اعلان کیا کہ ہفتے کی صبح ایک اور بجلی اور پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو ایرانی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
وزارت کے مطابق حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور بجلی گھر کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔
بحرین میں وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ چند گھنٹوں کے دوران تیسری بار خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ وزارت نے شہریوں اور رہائشیوں سے کہا کہ وہ قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔ یہ پیش رفت اس اعلان کے بعد سامنے آئی کہ ایرانی فوج نے شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب اردن کی فوج نے بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اردنی حدود کی جانب آنے والے 10 ایرانی میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا۔
فوج کے مطابق اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان یا مالی نقصان نہیں ہوا، جبکہ شاہی انجینئرنگ کور کی ٹیموں نے مختلف مقامات پر گرنے والے میزائلوں کے ملبے کو محفوظ بنانے اور نمٹانے کا کام شروع کر دیا۔