فلسطینی معیشت مشکلات کا شکار، مغربی کنارے میں بہت زیادہ نقدی مسئلے کا باعث

فلسطینی بینکنگ نظام کے پاس اسرائیلی شیکلز سنبھالنے کی گنجائش نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

اس کی تصویر بنائیں: گیس سٹیشن پر ایک گاہک گیس بھرنے کے بعد ادائیگی کے لیے نقد رقم نکالتا ہے۔ کیشئر رقم لینے سے انکار کر دیتا ہے کہ سٹیشن کے بینک نے نوٹوں اور سکوں کو بطور ڈپازٹ قبول کرنا بند کر دیا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی نقدی سے لدے ہوئے ہیں۔

زیادہ تر جگہوں پر نقدی بادشاہ ہوتی ہے۔ لیکن اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں نقدی کا بہت زیادہ ہونا روزمرہ زندگی کی مشینری چلانے میں حائل ہو رہا ہے۔ فلسطینی بینکنگ سسٹم کے پاس اسرائیلی شیکلز سنبھالنے کی گنجائش نہیں ہے۔ نتیجتاً رہائشیوں کے لیے کاغذی رقم خرچ کرنا اور کاروباروں کے لیے اپنے کھاتوں میں جمع کروانا مشکل ہو گیا ہے۔

اضافی لیکویڈیٹی کی وجہ بینک آف اسرائیل اور فلسطینی مانیٹری اتھارٹی کے درمیان تنازعہ ہے جو فلسطینی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی نگرانی کرتی ہے۔ اسرائیل مغربی کنارے سے جو نوٹوں کی کرنسی واپس لے جاتا ہے، اس کی مقدار کو محدود کر دیا ہے۔ فلسطینی حکام کہتے ہیں کہ یہ طریقہ کار علاقے کو اقتصادی بحران کی حالت میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک طرف مغربی کنارے کے بینکوں کے پاس شیکلز کے ڈھیر ذخیرہ کرنے کے لیے جگہ ختم ہو رہی ہے تو دوسری طرف غزہ میں برسوں کی تقریباً مکمل ناکہ بندی کی وجہ سے نقد رقم کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بینک آف اسرائیل کے مزید نوٹوں اور سکوں کو قبول کرنے سے انکار کے بعد تجارتی بینک فراہم کنندگان کو ادائیگی کرنے یا اپنے صارفین کی جانب سے ٹرانسفر کو پروسیس کرنے کے لیے رقم کو الیکٹرانک بیلنس میں تبدیل نہیں کر سکتے۔

فلسطینی مانیٹری اتھارٹی کے نائب گورنر محمد منصرہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، بحران سے نمٹنے کی صلاحیت میں بینکوں کو بیڑیاں ڈال دی گئی ہیں۔ "مغربی کنارے میں جو عمل ہو رہا ہے، وہ معاشی جنگ ہے۔"

اسرائیل کی اجازت سے زیادہ نقد رقم کی مغربی کنارے میں آمد

زیادہ تر ممالک میں مرکزی بینک کمرشل بینکوں سے نقد رقم واپس لے کر انہیں الیکٹرانک طور پر کریڈٹ کر دیتے ہیں تاکہ وہ ادائیگیاں اور صارفین کی ضروریات پوری کر سکیں۔ لیکن مقبوضہ مغربی کنارے میں جہاں فلسطینیوں کا مالیاتی پالیسیوں پر کوئی اختیار نہیں ہے، معیشت مختلف طریقے سے چلتی ہے۔

یہ علاقہ کئی عشروں سے بنیادی طور پر اسرائیلی شیکل پر انحصار کرتا رہا ہے اور 1990 کے عشرے سے طے پانے والے معاہدوں کے تحت تجارت میں سہولت فراہم کرنے، ٹیکس جمع کرنے اور درآمدی سامان کی ادائیگیوں کے لیے اس کا دارومدار اسرائیل پر ہے۔ نقد رقم کا ذخیرہ جمع ہوتا ہے کیونکہ فلسطینی معیشت تقریباً صرف کاغذی کرنسی پر چلتی ہے اور اسرائیل سے داخل زیادہ ہوتی ہے جبکہ اخراج کم ہوتا ہے۔

کیوں؟ اسرائیل اور اس کی آبادیوں میں آجر فلسطینی مزدوروں کو نقد ادائیگی کرتے ہیں اور اسرائیل کے فلسطینی شہری سگریٹ اور ایندھن جیسی اشیا اکثر مغربی کنارے سے خریدتے ہیں جس سے اور بھی زیادہ شیکل ملتے ہیں۔ جوں جوں زیادہ نقد رقم آتی ہے تو فلسطینی بینکوں کے اندر پھنسا سرپلس بڑھتا ہے جس سے نہ تو سود حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی یہ قرضوں، سرمایہ کاری اور بلوں کی ادائیگیوں میں تبدیل ہوتا ہے۔

مغربی کنارے کے بینکنگ سسٹم سے اسرائیل کی نقد رقم کی منتقلی کی حد 18 بلین شیکل سالانہ ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کو مشورہ دینے والے ماہر اقتصادیات معیاد عفانی نے کہا ہے کہ بینکوں میں اب ایک اندازے کے مطابق 30 بلین شیکل سالانہ جمع ہوتے ہیں۔

ماضی میں اسرائیلی حکام نے ان خدشات کے باعث مزید نقدی قبول کرنے میں پس و پیش کا اظہار کیا کہ واپس کردہ رقم کا تعلق منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری یا دہشت گردی سے ہو سکتا ہے۔

بینک آف اسرائیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کی پالیسی پر عمل کرتا ہے کہ کتنے شیکل قبول کیے جائیں لیکن غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بہت کم فلسطینیوں نے اسرائیل میں کام کیا ہے اور اس طرح مغربی کنارے میں داخل ہونے والی نقدی میں کمی آئی ہے۔

ستمبر 2025 میں اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلل سماٹریچ نے دھمکی دی کہ وہ فلسطینی ریاست کا قیام روکنے کے لیے اپنے اختیار میں موجود تمام ممکنات

بشمول "معاشی شکنجہ" استعمال کریں گے۔

فلسطینیوں کے مطابق اسرائیل اقتصادی فائدہ کے لیے شیکل لینے کو محدود کرتا ہے

اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل نے مغربی کنارے کی معیشت کو متأثر کرنے والے اقدامات کا ایک سلسلہ نافذ کیا ہے۔

اس نے اسرائیل میں کام کرنے والے فلسطینیوں کے زیادہ تر ورک پرمٹس منسوخ کر دیے جس سے مقبوضہ علاقے میں آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو گیا۔ اس نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جمع کردہ ٹیکس اور کسٹم ریونیو روک دیا ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے پبلک سیکٹر کے کارکنان بشمول اساتذہ اور ہسپتال کے عملے کو مکمل ادائیگی کرنے سے قاصر ہے۔

بینکوں کو نقد رقم ذخیرہ اور بیمہ کرنے کے لیے ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے جو اس کے لیے مشکل ہے تو وہ کاروباری اداروں اور گھرانوں سے کم رقم قبول کر رہے ہیں۔

منصرہ نے کہا، اضافی شیکل کا مسئلہ "بڑے صنعتی شعبوں اور فلسطینی عوام کو خدمات فراہم کرنے کے لیے حکومتی صلاحیت اور نجی شعبے کی صلاحیت کو براہِ راست متأثر کر رہا ہے۔"

مثلاً انہوں نے نوٹ کیا کہ مغربی کنارے کا زیادہ تر ایندھن اور بجلی اسرائیل سے درآمد ہوتی یا اسرائیلی یوٹیلیٹیز سے خریدی جاتی ہے۔ جب بینکوں کے پاس اپنے بہت زیادہ اثاثے کاغذی نقدی کے طور پر بندھے ہوتے ہیں تو ان کے پاس فنڈز نہیں ہوتے جب ان کے کلائنٹس جیسے فلسطینی اتھارٹی یا مغربی کنارے کے شہروں کو ایندھن، پانی اور بجلی درآمد کرنے کے لیے ادائیگیاں منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرِ اقتصادیات عفانی نے کہا، اسرائیلی فوجیوں کے گھروں پر بڑھتے ہوئے چھاپے اور لوٹ مار کے خوف سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ فلسطینی لوگ بینکوں میں زیادہ رقم جمع کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خوف ہے کہ فوجی اسے ضبط کر لیں گے یہ کہہ کہ مشتبہ طور پر بڑی رقم غیر قانونی مقاصد یا دہشت گردی کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

مغربی کنارے میں نقدی پر مبنی کاروبار کے پاس پیسہ ہے لیکن فراہم کنندگان کو ادائیگی نہیں کر سکتے

جب فلنگ سٹیشنز اپنے فراہم کنندگان کو ادائیگی نہیں کر پاتے تو بعض گیس سٹیشنز کو اپنے پمپ بھرنا بند کرنا پڑتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے ایک بیان میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا جب ہفتے کے روز گیس سٹیشنز عارضی طور پر بند ہو گئے۔

گزشتہ ماہ متعدد گیس سٹیشن مالکان نے نقدی کے بحران کی طرف توجہ مبذول کروانے کے لیے مغربی کنارے میں 30 منٹ کی ہڑتال کی لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔

الہدیٰ گروپ کے ایگزیکٹو مینیجر حسنی جابر نے کہا، آمدنی روایتی بینکنگ سسٹم سے باہر پھنس جانے سے کاروباری لوگوں کو خدشہ ہے کہ نقدی کی کمی کے باعث بالآخر مغربی کنارے کی کمپنیاں اسرائیل یا بیرونِ ملک سے ایندھن، خوراک اور طبی سامان درآمد نہیں کر سکیں گی۔

انہوں نے کہا، اگر نقدی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو تمام شعبے تباہ ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں