اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی کرتے ہوئے بمباری کی ہے۔ اس بمباری سے غزہ کے ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ منگل کے روز کی گئی اسرائیلی بمباری سے ایک فلسطینی خاندان کا سربراہ ، اس کی اہلیہ اور چار بچوں کو نشانے پر لیا گیا تھا۔
طبی حکام نے ان تمام افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ بمباری منگل کے روز کی گئی تھی۔ غزہ میں جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 سے نافذالعمل ہے۔ یہ معاہدہ امریکی صدر ٹرمپ نے کرایا تھا۔ اس معاہدے کی آٹھ عرب و اسلامی ملکوں نے بھی تائید کی تھی۔
طبی حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد میں فلسطینی فراس المصری اور ان کی اہلیہ سلسبیل ہیں، ان کے ساتھ ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی جاں بحق ہو گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے اس بمباری کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا ہدف توحماس رہنما تھے۔ تاہم ابھی اسے بمباری کے نتائئج کا انتظار ہے۔
مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو ایک ویڈیو ملی ہے جس میں ریسکیو ٹیم گھر کو بمباری سے لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ گھر کے اندر سے اہل خانہ کو نکال سکیں۔ تاہم اہل خانہ کی چھ لاشیں ملی ہیں۔
شہید ہونے والے المصری کے والد نے 'روئٹرز ' کو بتایا جب بمباری کی گئی تو سب اہل خانہ سو رہے تھے۔ میرا بیٹا، بہو ، پوتا اور پوتیاں سب چلے گئے۔ میں اپنے پوتے اور پوتیوں کو بھی بچا نہ سکا کہ آگ کے شعلے بلند تر تھے۔
غمزدہ سفید ریش باپ نے کہا ' یہاں اب کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ ہمارے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ '
اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو صرف غزہ میں جاں بحق کر چکی ہے۔ مگر یہ سلسلہ ابھی جارہی ہے۔ پچھلے جمعہ کے روز سے اب تک کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں اسرائیلی فوج نے بمباری کی ہے۔
جبکہ منگل کے روز ہی اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ میں ایک گاڑی کو ہدف بنا کر بمباری کی۔ جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور دیگر زخمی ہو گئے۔ تاہم اس واقعے پر اسرائیلی فوج نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔