پائیدار استحکام سفارتی حل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے : سعودی وزیر خارجہ

سعودی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ خطے میں بڑی صلاحیتیں موجود ہیں جو اسے زیادہ خوش حال مستقبل کے حصول کے قابل بناتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں مستقل استحکام کے حصول کا انحصار فوجی طاقت پر نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے ایسے پائیدار سفارتی حل درکار ہیں جو بحرانوں کی بنیادی وجوہات کا علاج کریں۔ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بات چیت اور مشترکہ کام کو فروغ دینے کی دعوت دی۔

یہ بات انہوں نے برطانیہ کے شہر کیمبرج میں سولہویں خلیج ریسرچ میٹنگ میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کے دوران کہی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں خطے کو درپیش چیلنجوں اور ایک زیادہ مستحکم اور تعاون پر مبنی علاقائی نظام کی تعمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

سعودی وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ حالیہ علاقائی پیش رفت سے یہ ثابت ہوا ہے کہ بحرانوں کے اثرات اب صرف خطے تک محدود نہیں رہے، بلکہ عالمی سکیورٹی، توانائِی کی منڈیوں اور اقتصادی نمو تک پھیل چکے ہیں۔ انہوں نے عارضی طور پر کشیدگی کم کرنے پر اکتفا کرنے کے بجائے موجودہ بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھنے اور ایسے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے ضروری حالات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو پائیدار انداز میں امن و سکیورٹی حاصل کریں۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے اشارہ کیا کہ ایک زیادہ مستحکم علاقائی نظام کی تعمیر کے لیے اقوام متحدہ کے منشور میں درج بنیادی اصولوں کی پابندی ضروری ہے، جن میں سب سے پہلے ریاستوں کی خود مختاری کا احترام، ان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری، جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت اور بین الاقوامی قانون کا احترام شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اصول کسی بھی مستحکم علاقائی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں عظیم صلاحیتیں موجود ہیں جو اسے زیادہ خوشحال مستقبل کے حصول کے قابل بناتی ہیں۔ انہوں نے موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کے امکانی راستوں پر اپنے پُر امید ہونے کا اظہار کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی وژن 2030 اس پختہ یقین سے شروع ہوتا ہے کہ ترقی، جدت طرازی اور اقتصادی مواقع کی فراہمی استحکام کو فروغ دینے اور تنازعات کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے موجودہ مرحلے کو ایک ایسے علاقائی نظام کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو تعاون، باہمی احترام اور ایسے پائیدار معاہدوں پر مبنی ہو جو سب کے لیے سکیورٹی اور خوشحالی حاصل کریں۔

وزیر خارجہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر تعلیمی و فکری فورمز، بشمول خلیج ریسرچ میٹنگ کے اس کردار کو سراہا جو وہ فہم کو گہرا کرنے، بات چیت کو فروغ دینے اور ان مباحث کو بھرپور بنانے میں ادا کرتے ہیں جو فیصلہ سازوں کی معاونت کرنے اور خطے و دنیا کے لیے ایک زیادہ مستحکم، خوش حال اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں