فلسطینی وزارت ثقافت نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ غیر سرکاری ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے قائم بین الحکومتی کمیٹی نے اپنے اجلاس کے دوران "فلسطینی لوک دبکہ" [رقص] کو ’یونیسکو‘ کی غیر محسوس ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کی فلسطینی درخواست کو قبول کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
فلسطینی وزیر ثقافت ڈاکٹرعاطف ابو سیف نے کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینی حکام کی جانب سے دو سال قبل سرکاری اور سول اداروں کے تعاون سے شروع کی گئی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔
ابو سیف نےغزہ سے ایک بیان میں مزید کہا کہ فہرست میں فلسطینی روایتی دبکہ کی رجسٹریشن عوامی کہانی کی فائلوں اور فلسطینی کڑھائی آرٹ فائل کے بعد فلسطین کے نام پر رجسٹر ہونے والی تیسری فائل تصور کی جاتی ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "یہ فیصلہ ہماری قوم کے لیے ایک فتح کے طور پر آیا ہے، جو روزانہ قابض ریاست کے ساتھ اپنی بقا کی جدو جہد دکررہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بھی ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں ہمارے فلسطینی عوام فلسطینی وجود اور فلسطینی ورثےکو پوری دنیا کے سامنے تباہ کیا جا رہا ہے۔
ابو سیف نے کہا کہ فلسطینی ثقافتی ورثے کو اس کی مادی اور غیر محسوس شکل میں محفوظ رکھنا فلسطینی شناخت کی تعمیر میں بنیادی تعمیراتی بلاک کے طور پر "ایک خالصتاً قومی مشن ہے، کیونکہ یہ فلسطینی قوم اور اس کے ورثے ، تشخص اور دشناخت کو مٹانے کے خلاف موثر جواب ہے۔