اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی قانون سازوں کو بتایا، وہ یرغمالیوں کو گھر واپس لانے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ اس کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیلی افواج نے جمعرات کو جنوبی غزہ میں خان یونس کے مشرقی جانب کچھ قصبوں میں مزید گہرائی تک پیش قدمی کی۔
حالیہ دنوں میں لڑائی مشرقی قصبوں بنی سہیلا، الزنہ اور القرارہ کے ارد گرد مرکوز ہے جس کے بارے میں اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اسے وہاں پانچ اسرائیلیوں کی لاشیں ملیں جو حماس کے سات اکتوبر کے حملے میں مارے گئے تھے اور اس کے بعد سے ان کی لاشیں غزہ میں رکھی گئی تھین۔
فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں کی اور فضائی گولہ باری کے دوران مشرقی قصبوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ خان یونس کے مشرق میں ایک فضائی حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔
رہائشیوں اور طبی ماہرین نے بتایا کہ جب ٹینکوں نے شمال، مغرب اور قصبے کے وسط میں کارروائی کی تو مصر کی سرحد کے قریب رفح کے کئی علاقوں میں اسرائیلی بمباری تیز ہو گئی۔ اس سے قبل جمعرات کو اسرائیلی فائرنگ میں متعدد فلسطینی زخمی بھی ہوئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ خان یونس میں کارروائی کرنے والی افواج نے درجنوں مزاحمت کار ہلاک اور 50 کے قریب فوجی ڈھانچے تباہ کر دیئے جبکہ رفح میں اس کی سرگرمیاں جاری رہیں جس میں دو مزاحمت کار ہلاک ہو گئے۔
دوسری طرف امریکی کانگریس سے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا، ان کی حکومت باقی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سرگرمِ عمل ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے۔
مایوس کن تقریر
حماس نے نیتن یاہو کے تبصروں کو "خالص جھوٹ" قرار دیتے ہوئے ان پر جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا الزام لگایا۔
نیتن یاہو کے تبصروں نے بے گھر ہونے والے بہت سے فلسطینیوں کو بھی مایوس کیا جنہوں نے لڑائی کے فوری خاتمے کے واضح اشارے کی امید لگا رکھی تھی جس کی وجہ سے پرہجوم انکلیو برباد ہو کر رہ گیا ہے اور ایک عظیم انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔
وسطی غزہ کی پٹی میں دیر البلح میں اس وقت بے گھر ایک رہائشی تیمر البرائی نے کہا، "یہ مایوس کن تھا۔ انہوں نے جنگ بندی کا ذکر تک نہیں کیا، ایک بار بھی نہیں۔"
برائی نے ایک چیٹ ایپ کے ذریعے رائٹرز کو بتایا، "لوگوں کو کسی حیران کن بات کا انتظار تھا، نیتن یاہو کی طرف سے بائیڈن کو جنگ بندی کے اعلان کا تحفہ لیکن وہ بہت مایوسی سے سوئے کیونکہ نیتن یاہو نے کہا کہ وہ جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم تھے۔"
دیر البلح جہاں ابھی تک ٹینکوں نے حملہ نہیں کیا ہے، اس وقت لاکھوں فلسطینیوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا ہے جو انکلیو کے دوسرے علاقوں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ یہاں 2.3 ملین لوگ رہ رہے ہیں۔
برائی نے کہا، "نیتن یاہو نے گویا ایک ڈرامے جیسی بات کی، گویا وہ مسخروں سے مخاطب ہوں۔"
امریکہ کی حمایت سے جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنے کے لیے عرب ثالثوں کی سفارتی کوششیں رکتی ہوئی نظر آتی تھیں کیونکہ اسرائیل کے اگلے ہفتے مزید مذاکرات کے لیے ایک وفد بھیجنے کی توقع تھی۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ شمالی غزہ میں شیخ رضوان کے مضافاتی علاقے میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ سات فلسطینی وسطی غزہ کے ایک ہسپتال پہنچے جنہیں اسرائیلی افواج نے حراست میں رکھا اور پھر سرحد کے قریب ایک علاقے میں چھوڑ دیا تھا۔