.

پی ایم ایل این کے ممنون حسین پاکستان کے نئے صدر منتخب

پی ٹی آئی کے امیدوار کو شکست، پی پی پی اور اس کے اتحادیوں کا بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل۔این) کے نامزد امیدوار ممنون حسین اپنے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کو شکست دے کر ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

نومنتخب صدر ممنون حسین موجودہ صدر آصف علی زرداری کی 8 ستمبر کو پانچ سالہ آئینی مدت پوری ہونے کے بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ صدر زرداری کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لیا اور اس کے امیدوار رضاربانی دستبردار ہوگئے تھے۔

تہتر سالہ ممنون حسین پاکستان مسلم لیگ کے دیرینہ کارکن ہیں۔ انھوں نے صدر منتخب ہونے کے فوری بعد پی ایم ایل ۔ این کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ ذاتی طور پر ایک شریف النفس انسان ہیں اور کراچی کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ جون سے اکتوبر1999ء کے دوران مختصر مدت کے لیے صوبہ سندھ کے گورنر بھی رہے تھے۔

نئے صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹ ڈالے گئے اورصبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک پولنگ ہوئی۔ اس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کی اطلاع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ممنون حسین نے دوسو ستتر ووٹ حاصل کیے ہیں۔ انھیں جیت کے لیے دوسو تریسٹھ ووٹ درکار تھے۔ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کے حق میں چونتیس ووٹ ڈالے گئے جبکہ پولنگ عملے نے تین ووٹ مسترد کردیے۔

پی ٹی آئی کے امیدوار نے صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ انھوں نے کل ڈالے گئے ایک سو دس ووٹوں میں سے انہتر ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ممنون حسین کے حق میں اکتالیس ووٹ پڑے۔

سندھ اسمبلی میں موجود اکہتر میں سے انہتر ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ان میں سے چونسٹھ نے پی ایم ایل این کے صدارتی امیدوار کے حق میں ووٹ دیا اور پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں صرف پانچ ووٹ پڑے۔

سندھ اسمبلی میں صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس مشیر عالم پریزائیڈنگ آفیسر تھے۔ انھوں نے صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ممنون حسین نے آئینی میکانزم کے مطابق 24.76 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل جسٹس وجیہہ نے 1.93 ووٹ لیے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے چھپن ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ان میں سے پچپن نے ممنون حسین اور صرف ایک نے ان کے مدمقابل پی ٹی آئِی کے حق میں ووٹ ڈالا۔دم تحریر پنجاب اسمبلی کے نتائج مرتب کیے جارہے تھے لیکن وہاں پی ایم ایل این کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ اس لیے اس کے امیدوار کی جیت یقینی تھی۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے صدارتی انتخاب کے عمل کو ری شیڈول کرنے کے فیصلے کے خلاف اپنے تحفظات کے پیش نظر صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔پی پی پی کی اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ق ،بلوچستان نینشل پارٹی ۔ اے اور عوامی مسلم لیگ نے بھی صدارتی انتخاب کا بائِیکاٹ کیا ہے۔اس طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایک سو اڑتالیس ووٹ پول نہیں ہوئے ہیں۔

الیکٹورل کالج

صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج 1170 ووٹوں پر مشتمل تھا لیکن چاروں صوبائی اسمبلیوں کو آئین مِیں وضع کردہ فارمولے کے مطابق مساوی ووٹ دیے گئے ہیں۔ اس لیے کل ووٹوں کی تعداد 702 ہے۔

اس فارمولے کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد سب سے کم پینسٹھ ہے۔ اس لیے باقی تینوں صوبوں کے ارکان کو بھی پینسٹھ پر تقسیم کرکے ان کے ووٹوں کی شرح کا تعین کیا گیا ہے۔پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تعداد سب سے زیادہ ہے اوراس کے 5.7 ارکان کا ایک ووٹ ہے،سندھ اسمبلی کے 2.58 ارکان اور خیبر پختونخوا کے 1.9 ارکان کا ایک ووٹ شمار کیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی ،سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن ایک، ایک ووٹ ہے۔