.

پاکستان کی قومی اسمبلی ڈرون حملوں کیخلاف پھر یک جان

جمعیت علماء اسلام کی قرارداد چک ہیگل کی آمد کےاگلے روز متفقہ منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک مرتبہ پھر متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے ڈرون حملے بند کیے جائیں۔ یہ قرارداد ایک ایسے موقع پر منظور کی گئی ہے جب محض ایک روز قبل امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے اسلام آباد کو نیٹو سپلائی کی محفوظ بحالی نہ ہونے کی صورت میں مبینہ طور پر امریکی امداد روکنے کا انتباہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کسی بھی امریکی وزیر دفاع کے چار سال کے وقفے کے بعد ہونے والے اس دورے کے موقع پر یہ پیغام براہ راست پاکستان کی اعلی قیادت کو دیا گیا ہے۔

چک ہیگل مشرق وسطی، خلیجی ممالک اور افغانستان کے رہنماوں سے ملاقات کے بعد پیر کے روز اسلام آباد پہنچے تھے۔ جہاں انہوں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے علاوہ سلامتی و خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں کیں۔

خلیجی اور مشرق وسطی کے ملکوں کے نمائندوں سے ملاقاتوں میں چک ہیگل نے انہیں خطے میں آئندہ بھی امریکی افواج کے موجود رہنے اور اپنے عرب دوستوں کو کسی بھی صورت تنہا نہ چھوڑنے کا عندیا دیا، جبکہ پاکستانی قیادت کو اس سے آگے بڑھتے ہوئے یہ انتباہ بھی کیا نہ صرف ڈرونز پالیسی میں تبدیلی مشکل ہے بلکہ پاکستان میں نیٹو سپلائی کے تحفظ کیلیے خاطر خواہ انتظامت نہ کیے گئے تو مالی امداد میں بھی رکاوٹ آ سکتی ہے۔

واضح رہے اس موقع پر امریکی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں پاکستان کو جتلایا گیا ہے کہ امریکا افغان جنگ کے باعث اب تک 16 ارب ڈالر دے چکا ہے۔

چک ہیگل نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر یہ بھی دوٹوک باور کرایا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد بھی دہشت گردوں کا پیچھا کیا جاتا رہے گا۔ گویا ڈرون حملے جاری رہیں گے۔

دوسری جانب حکومت پاکستان نے اس موقع پر کوئی ایسی بات نہیں کی ہے جو امریکی مہمان کی پسند کی نہ ہو البتہ ایسا تاثر ضرور دیا ہے کہ ڈرون حملوں کے منفی اثرات زیادہ ہیں۔ اس لیے ڈرونز کے بہتر متبادل کی ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے۔

منگل کے روز قومی اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کو اگرچہ کسی بھی جماعت کی مخالفت کا سامنا نہین کرنا پڑا اور یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کا یہ جواب سامنے آیا ہے کہ عالمی برادری کو ڈرون حملوں کے منفی اثرات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے یہ نہیں بتایا کہ چک ہیگل سے اس بارے میں کیا کہا گیا ہے، آیا منفی اثرات کو پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کیخلاف بھی قرار دیا گیا ہے یا نہیں۔

ڈرون حملوں کے خلاف منظور کردہ قرارداد کی مخالفت نہ کیے جانے سے لگتا ہے کہ پاکستان کی حکومت جس طرح امریکی مہانوں یا امریکی میزبانوں کے سامنے کھل کر بات کرنے سے بچ رہی ہے تو قومی اسمبلی میں بھی کھلے عام ڈرون کے حق میں نہیں ہو سکتی ہے۔