پاکستانی قبائلی علاقے میں فورسز کی بمباری، 15 ہلاک
کراچی میں تین پولیو ورکروں کو گولی مار دی گئی
پاکستان میں مسلسل دو دن پاکستانی فورسز کو نشنانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد پاکستان کی فورسز نے قبائلی علاقہ جات میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کرتے ہوئے بیس سے زائد کو ہلاک کر دیا ہے، بمباری سے پندرہ کے قریب زخمی بھی ہو گئے ہیں۔
پیر اور منگل کی درمیانی شب فورسز کے جیٹ طیاروں کا عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جو منگل کی صبح کے وقت تک گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازوں اور عسکریت پندوں کے مراکز پر بمباری کی صورت جاری رہا ۔
مقامی لوگوں کے مطابق اس فوجی بمباری کے دوران ایک مسجد اور عام لوگوں کے مکان بھی نشانہ بنے ہیں، تاہم ابھی اس کی سرکاری سطح سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ واضح رہے پاکستانی فورسز کی یہ بمباری میر علی اور میران شاہ کے علاقوں میں ہوئی ہے۔
ابتدائی طور پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق فورسز نے بنوں چھاونی کے علاقے میں پاک فوج کے قافلے کو نشانہ بنانے والے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا ہے، اس سلسلے میں فورسز کو مصدقہ اطلاعات ملی تھیں جن کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ یہ کاروائی پیر کی صبح جی ایچ کیو سے متصل علاقے میں مبینہ خود کش دھماکے کے بارہ گھنٹوں بعد کی گئی ہے۔
یہ فوجی کارروائی منگل کی صبح تک جاری رہی ہے، تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کارروائی اس صورت چلتی رہے گی یا یہ وقتی ضرورت کے تحت کی گئی ہے۔ واضح رہے راولپنڈی دھماکے میں 14 افراد اور بنوں فوجی قافلے پر حملے میں 20 سے زائد فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔
ادھر پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم پر نامعلوم بندوق برداروں نے حملہ کر کے دو خواتین سمیت تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ جبکہ ایک خاتون ورکر زخمی ہے۔
-
پاکستان: بنوں چھاونی دھماکے سے لرز اٹھی، 21 اہلکار جاں بحق
دھماکا سامان اور سپاہ کی ترسیل کے لئے کرائے پر لی گئی پرائیویٹ گاڑی میں ہوا
پاكستان -
ریل کو بم سے اڑانے کوشش، تین مسافر ہلاک 15 زخمی
ریل ٹریک پر دھماکہ پاکستان کے ضلع راجن پور میں کیا گیا
پاكستان -
پاکستان میں ایک اور پولیو ورکر ہلاک، ایک زخمی
پولیو ورکرز پر حملہ پشاور شہر سے باہر داخلی راستے پر ہوا
پاكستان