.

طالبان سےمذاکرات کمیٹی پہلا اجلاس،عمران سے بھی ملاقات

کمیٹی اپنے کام میں آزاد ہے، مذاکرات فوری شروع کرے: نواز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی اسمبلی میں طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی بحث کے بعد حکومت کی قائم کردہ چار رکنی کمیٹی کا پہلا اجلاس جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کی جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی شریک ہوئے۔

وزیر اعظم نے کمیٹی کے ارکان کے ساتھ قیام امن کیلیے اپنی خواہش کا ذکر کرتے ہوئے کمیٹی کو ہدایت کی کہ فوری طور پر کام شروع کیا جائے اور ہر اس طالبان گروپ سے رابطہ کیا جائے جو مذاکرات کا خواہاں ہے۔

میاں نواز شریف نے کہا کمیٹی مکمل طور پر آزادانہ انداز میں اپنا کام کرے گی۔ اور اس سلسلے میں اسے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس موقع پر میاں نواز شریف نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی وہ کمیٹی کی تمام ضروری ریکارڈ اور معلومات تک رسائی ممکن بنائیں۔

کمیٹی کے اجلاس میں اب تک مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ واضح رہے کمیٹی میں ایک سابق انٹیلی جنس افسر اور ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کے علاوہ ایک آزاد صحافی اور ایک حکومتی مشیر شامل ہیں۔

کمیٹی کے قیام پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض پیر زادہ کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان سے مذاکرات کامیاب ہونے کی امید نہیں ہے جیسا کہ حکومت میں شامل دیگر تمام لوگ بھی سمجھتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا میاں نواز شریف کی کوشش ہے کہ وہ اتمام حجت کریں اور کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ امن کو موقع نہیں دیا گیا۔

پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی طالبان پر پیشگی شرائط عاید کرنے کے حق میں نہیں ہے البتہ سکیورٹی ادارے غیر مشروط مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔

طالبان سے مذاکرات کیلیے قائم چار رکنی کمیٹی نے اپنے پہلے اجلاس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے بھی ملاقات کی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے اپنی کامیابی کیلیے سیاسی قائدین اور جماعتوں کے تعاون کو ضروری قرار دیا ہے۔

عمران خان نے کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کمیٹی کو اپنی جماعت کے پورے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو اوپن رکھنے پر بھی زور دیا کہ وفاقی حکومت دوسروں کو بھی آگاہ رکھے جیسا کہ پہلے نہیں کیا جاتا رہا ہے۔