.

''طالبان کے ٹھکانے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے نشانے''

نو عسکریت پسند ہلاک، ضلع ہنگو کے علاقے میں بھی شیلنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی طرف سے طالبان کے خلاف کارروائیاں ہفتے کے روز بھی جاری رہی ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے ہفتے کے روز صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں عسکریت پسندوں کے مبینہ دو ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اطلاع ملی تھی کہ عسکریت تحصیل ٹل میں کسی بڑی کارروائی کی تیاری میں مصروف ہیں۔ جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ سکیورٹی ذرائع عسکریت پسندوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

واضح رہے پاکستان میں حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان پچھلے ماہ کے اواخر سے مذاکرات کیلیے کمیٹیاں تشکیل پائی تھیں، تاہم طالبان کی طرف سے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو ہلاک کیے جانے کے پے در پے واقعات کے بعد ان مذاکرات میں تعطل آ چکا ہے۔

جبکہ حکومت نے سکیورٹی اداروں کو عسکریت پسندوں کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جس کے بعد ایک ہفتے کے دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی گئی ہے۔ اس سے پہلے میر علی اور باڑہ کے علاقوں میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے 40 عسکریت پسند اسی ہفتے کے دوران مارے گئے تھے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق گن شپ ہیلی کاپٹروں سے ایک کارروائی اورکزئی، کرم ایجنسی اور بندوبستی علاقے کے سنگم پر کی گئی ہے اور دوسری کارروائی تحصیل ٹل کے علاقے درسمندر میں عسکریت پسندوں کے قائم ٹھکانے پر کی گئی ہے۔ ان دونوں کارروائیوں سے مجموعی طور پر 9 عسکریت پسند مارے گئے ہیں، تاہم ابھی کسی کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سکیورٹی اداروں کی ان کارروائیوں اور طالبان کی طرف سے کارروائیوں سے صاف لگتا ہے کہ مذاکراتی عمل شروع ہو چکنے کا باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کو دباو میں لانے کی کوشش میں ہیں اور کوئی ایک فریق یکطرفہ جنگ بندی پر تیار نہیں ہے۔