پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کا گورنر مستعفی

نئے گورنر کیلیے میجر عامر اور سردار مہتاب کے نام زیر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر انجنئیر شوکت اللہ اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ انجنئیر شوکت اللہ کو سابق صدر آصف علی زرداری نے گورنر بنایا تھا۔ ان کے استعفا کے بعد وفاقی حکومت اپنی مرضی کا گورنر مقرر کر سکے گی۔ نئے گورنر کی تقرری سے وفاقی حکومت کو طالبان کے ساتھ امن عمل سے متعلق معاملات پر گرفت مضبوط کرنے کا موقع ملے گا ۔

واضح رہے صوبہ خیبر پختونخوا کا گورنر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو براہ راست دیکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ قبائلی علاقہ جات میں موجود ایجنسیوں کے انتظامی و عدالتی سربراہان اور پولیٹیکل ایجنٹ گورنر کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق افغانستان سے زمینی، ثقافتی اور لسانی اعتبار سے جڑے پاکستان کے اس صوبے کے لیے گورنرشپ کے حوالے سے سردار مہتاب عباسی اور ریٹائرڈ میجر عامر کے نام زیر غور ہیں۔ ایک طویل عرصے سے سردار مہتاب عباسی کا نام اس حوالے سے فیورٹ سمجھا جا رہا تھا لیکن پچھلے چند ہفتوں سے اس مقصد کیلیے میجر عامر کا نام تیزی سے زیر بحث آیا ہے۔

زیر گردش اطلاعات کے مطابق قبائلی عمائدین کے ہاں میجر عامر کا نام نسبتا زیادہ قابل قبول ہے۔ میجر عامر کے سابق فوجی افسر ہونے اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے بھی ان کے ایک موئثر گورنر کے طور پر سامنے آنے کا امکان زیادہ بتایا جاتا ہے، تاہم سابق وزیر اعلی سردار مہتاب عباسی صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت کے ہوتے ہوئے سیاسی نفوذ کے حوالے سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے گورنر بننے سے مسلم لیگ نواز کو ہزارہ ڈویژن میں بھی ایک خوشگوار پیغام دینے کا موقع مل سکتا ہے۔

تاہم امن و امان سے وابستہ شخصیات اور قبائلی علاقوں میں قیام امن کے راستے ملکی ترقی و استحکام کا خواب دیکھنے والے میجر عامر کو گورنر بنانے کے حق میں ہیں۔ میجر عامر بھی میاں نواز شریف کے آزمائے ہوئے ہیں۔ اس لیے امکان ہے کہ نئے گورنر کا اعلان جلد سے جلد ہو جائے گا۔ نئے گورنر کی تقرری سے پہلے سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی قائم مقام گورنر رہیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں