.

ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں کوئی تعطل نہیں: وزیرداخلہ

غیرضروری شوروغوغے میں طالبان سے مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے حکومت کے طالبان جنگجوؤں کے ساتھ امن مذاکرات پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ غیر ضروری شوروغوغے میں مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔

وہ اسلام آباد میں نادرا کے ہیڈ کوارٹرز میں جمعہ کو منعقدہ ایک تقریب میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ امن مذاکرات میں تعطل سے متعلق دعووں کو مسترد کردیا اور کہا کہ ایسا کوئی تعطل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''جن لوگوں کو مذاکراتی عمل کی حمایت کرنی چاہیے تھی،وہ غیر ضروری غوغا آرائی کے ذریعے حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ کررہے ہیں اور انھوں نے اس کو روڈ شو بنا دیا ہے''۔تاہم انھوں نے کسی فرد یا جماعت کا نام نہیں لیا۔

وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں امن مذاکرات کو جاری رکھںا مشکل ہوگا۔البتہ ان کے بہ قول طالبان شوریٰ کے ساتھ آیندہ براہ راست ملاقات میں تاخیر جنگجو دھڑوں کے درمیان اندرونی لڑائی کی وجہ سے ہورہی ہے اور حکومت کی جانب سے براہ راست مذاکرات میں کوئی تاخیر نہیں ہورہی ہے۔

انھوں نے پاک فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا کرنے کے لیے کی جانے والی مبینہ سازشوں پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کے پاکستان آرمی کے ساتھ تعلقات بہت اچھے جارہے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے ہی رہیں گے۔

دوسری جانب جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر اور تحریک طالبان کی نامزد کردہ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ حکومت اور طالبان شوریٰ کے درمیان براہ راست مذاکرات کا اگلا دور 5 مئی کو ہوگا۔

صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر رحیم یار خان کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے مذاکرات کار بھی حکومت کی طالبان شوریٰ کے ساتھ براہ راست ملاقات میں شرکت کریں گے۔ان کا بھی یہ کہنا تھا کہ اندرونی اور بیرونی قوتیں مذاکراتی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کے لیے سازشیں کررہی ہیں۔انھوں نے مسلح افواج اور طالبان جنگجوؤں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ہتھیاروں سے دستبردار ہوکر مذاکرات کے راستے کا انتخاب کریں۔

مولانا سمیع الحق نے جمعرات کو پشاور میں ایک جرگے سے خطاب میں کہا تھا کہ انھوں نے طالبان کو امن مذاکرات کے معاملے میں صبر وتحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امن مذاکرات میں تاخیر نہ کریں اور اس عمل کو آگے بڑھائیں۔ان کا اور طالبان کے ایک اور مذاکرات کار پروفیسر محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ طالبان پاکستان کے آئین کو تسلیم کرلیں گے۔