کراچی میں غیرملکی سفارت کاروں کی نقل وحرکت محدود

دفتر خارجہ نے غیرملکی قونصل خانوں اور سفارت کاروں کو میمو جاری کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے دفتر خارجہ نے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن وامان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر وہاں متعین غیرملکی سفارت کاروں کو محتاط رہنے اور اپنی نقل وحرکت محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دفتر خارجہ نے اس ضمن میں کراچی میں متعین قونصل جنرلز اور مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں کو ایک میمو بھیجا ہے۔اس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کراچی میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپنی نقل وحرکت کو محدود کردیں۔

دفتر خارجہ نے یہ میمو وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد جاری کیا ہے اور یہ کراچی میں پولیس افسروں اور سکیورٹی ایجنسیوں کو بھی بھِیجا گیا ہے۔دفتر خارجہ کی ایک داخلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت خارجہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد گروپوں کے حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

میمو میں کراچی میں متعین غیرملکی سفارت کاروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بعض علاقوں میں اپنی نقل وحرکت کے سلسلہ میں پولیس سے رابطے میں رہیں تا کہ انھیں مناسب سکیورٹی مہیا کی جاسکے۔

یادرہے کہ 2011ء میں کراچی میں ایک سعودی سفارت کار پر اپنے قونصل خانے کی جانب جاتے ہوئے مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے تھے۔شہر میں سعودی مفادات پر ایک ہفتے میں یہ دوسرا حملہ تھا۔

کراچی میں ایک عرصے سے امن وامان کی صورت حال خراب ہے اور وہاں روزانہ ہی چھے سات افراد نامعلوم مسلح حملہ آوروں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں یا پھر شہر کے مختلف علاقوں سے چار پانچ تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔چوری ،ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتیں ان کے علاوہ ہیں۔رینجرز نے گذشتہ چند ماہ سے شہر میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود صورت حال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

8 جون کو کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دہشت گردوں نے رات کی تاریکی میں حملہ کردیا تھا۔اس میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت بیس سے زیادہ شہری جاں بحق ہوگئے تھے اور سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سات سے دس دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔کراچی کے ہوائی اڈے پر اس حملے کے بعد ہی پاکستان آرمی نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف ضرب عضب کے نام سے بڑی کارروائی شروع کی تھی جس میں اب تک تین سو تیس ملکی اور غیرملکی جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں